خطبات محمود (جلد 8) — Page 551
551 کہتے ہیں۔اس تعریف کے ماتحت مفہوم ہوتا ہے۔ہمارے عقائد ہم سے الگ نہیں ہم رسول کریم کو ماجی حاشر عاقب مانتے ہیں۔مگر کیا ہر دفعہ ان کے نام کے ساتھ ان ناموں کو ہم بولتے ہیں۔گو ہم موقعہ محل پر ان کو بھی بولتے ہیں۔اور استعمال میں لاتے ہیں۔معترض صاحب کہتے ہیں کہ میں حضرت صاحب کی نبوت کا منکر نہیں۔کیونکہ میری موجودگی میں حضرت صاحب کو الہام ہوا تھا اطعموا الجائع والمعتر پھر تو وہ بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ خدا نے بھی ظلی بروزی بغیر صرف نبی کا لفظ استعمال کیا ہے۔اور حضرت صاحب نے تو بکثرت اپنی نسبت خالی نبی کا لفظ استعمال کیا ہے۔اگر وہ کہیں کہ ہم اس سے ظلی بروزی نبی سمجھتے تھے۔تو میں کہتا ہوں کہ بندہ خدا ہم کب نبی کا لفظ بول کر حضرت صاحب کو شرعی نبی کہتے ہیں۔اب میں جلسہ کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔کیونکہ جلسہ کا وقت بہت قریب آگیا ہے اور گو جمعہ کا وقت بہت تنگ ہو گیا ہے۔مگر میں جمعہ کے وقت کو بہت وسیع سمجھتا ہوں۔اس لئے میں اس بات کی چنداں پرواہ بھی نہیں کیا کرتا۔لیکن دونوں نمازوں کے اکٹھا ہو جانے میں دوستوں کے لئے تکلیف کا موجب سمجھتے ہوئے میں کچھ زیادہ نہیں کہہ سکتا۔احباب کو چاہیئے کہ اس وقت جب کہ اس جلسہ کی تقریب پر بکثرت مہمان آنے والے ہیں۔دوست اپنے آپ کو اس موقعہ پر کام کے لئے وقف کریں۔اور اس سال پچھلے سالوں سے زیادہ محنت اور توجہ سے کام کریں۔کیونکہ مومن ترقی کرتا ہے اور اس کا ہر قدم پہلی حالت سے آگے بڑھتا ہے۔اس لئے احباب اپنے عمل سے اپنے ایمان سے یہ ثابت کریں کہ انہوں نے گذشتہ سالوں کی نسبت بہت ترقی حاصل کر لی ہے پہلے سے زیادہ محنت ایثار اور قربانی کے ساتھ کام کریں پھر جن کے پاس مکان ہوں وہ مہمانوں کے لئے مکان بھی دیں مجھے یہ سن کر بہت افسوس ہوا کہ باوجود کوشش اور کافی تحریک کے صرف دو تین صاحبوں نے مکان دیئے ہیں۔کیونکہ اس سال جبکہ بہت کثرت کے ساتھ ایسے لوگوں نے بھی آتا ہے جو ہمارے سلسلہ میں داخل نہیں۔مگر ان کو سلسلہ سے ایک انس پیدا ہو گیا ہے۔یا ان کے دل میں سلسلہ کی عظمت ہے۔اور وہ کوئی تعصب نہیں رکھتے۔اور وہ بڑے بڑے معزز اور شرفاء ہیں۔بغیر مکانوں کے ان کی رہائش کا کیونکر انتظام ہو سکے گا۔جو احمدی ہیں وہ تو علیحدہ مکانوں کے بغیر بھی گذارہ کر سکتے ہیں۔اور کھوری پر بھی لیٹ سکتے ہیں لیکن وہ لوگ جن کی کوٹھیوں پر کوئی غریب قدم بھی نہیں رکھ سکتا اور وہ احمدیوں کی طرح اس قسم کی مشکلات برداشت کرنے کے عادی بھی نہیں۔اس لئے ایسے لوگوں کے لئے ایسی تکلیفیں ٹھو کر اور بعد کا موجب ہو جاتی ہیں۔یا وہ بیمار ہو جاتے ہیں۔اس