خطبات محمود (جلد 8) — Page 509
509 ایک مال جمع کرنا چاہتا ہے دوسرا خرچ کرنا۔ایک لوگوں کو آرام پہنچاتا ہے۔اور دوسروں کی خدمت کرتا ہے۔دوسرا لوگوں کو دکھ دیتا ہے۔اور ان کو تکلیف پہنچا کر اسے مزا آتا ہے۔اس قدر اختلاف شروع ہوتے ہیں کہ اس کی تفصیل نہیں ہو سکتی۔چھوٹے سے چھوٹے مسئلہ میں بھی اتحاد خوشی کا نہیں۔ایمانیات میں بھی یہی حال ہے۔اور پھر ایمان ہی کو لو۔ایک کہے گا کہ خدا ہے۔اب آگے فرق ہو گا کہ خدا کس طرح ہے۔چونکہ فہم خواہشات اور تجربہ جدا جدا ہیں۔اس لئے ان کے ماتحت فرق ہوتے جائیں گے۔اور یہی چیزیں ہیں جو دنیا میں فرق پیدا کرتی ہیں اسی تجربہ اور خواہش کے مطابق امتیاز ہوتا ہے۔ایک کو ترقی مل جاتی ہے اور دوسرا وہیں رہ جاتا ہے۔تیسرا گر جاتا ہے اور چوتھا بالکل تباہ ہو جاتا ہے۔جس قدر ترقیات ہیں۔ان کی اصل جڑ یہی ہے کہ وہ اس بات کے ساتھ وابستہ ہے۔اول اس مقصد کی صحت ہو۔جس میں سب متفق ہیں۔دوم اس مقصد کی صحت جس میں سب مختلف ہیں ایک میں اتحاد کامل اور دوسرے میں اختلاف کامل پیدا کرنا۔ترقیات کی جڑ ہے۔پس اس خوشی کو صحیح اور درست بنانے کی کوشش کرنی چاہیئے۔جب انسان اس طریق پر چلتا ہے۔تو وہ نہ صرف ترقی کرتا ہے بلکہ اس کو حقیقی خوشی حاصل ہوتی ہے۔اور جو لوگ اس بات سے مثلاً تسلی پالیتے ہیں کہ علم کامل ہو گیا۔وہ ترقیات نہیں کر سکتے۔اور نہ ان پر کوئی فیض نازل ہو سکتے ہیں اس بات کو خوب یاد رکھو کہ اختلاف احوال و اتحاد احوال ترقیات کی دو مضبوط جڑیں ہیں۔اتحاد میں کوشش کرے۔تاکہ بنی نوع انسان سے الگ نہ ہو جاوے۔اور اس میں ایسا اشتراک پیدا کرے جیسے انسانیت کا اشتراک ہے کہ کسی صورت میں اس سے الگ نہیں ہو سکتا۔اور دوسری طرف اختلاف میں ترقی کرتا جاوے اور اس قدر اختلاف میں ترقی کرے کہ نہ صرف لوگوں سے اختلاف ہو۔اسے اپنی ذات سے بھی اختلاف ہو۔اور اپنی ذات سے اختلاف یہ ہے کہ کل جس مقام پر تھا۔آج وہاں نہ ہو۔بلکہ اس سے آگے نکل جاوے۔مومن کے دو دن برابر نہیں ہونے چاہئیں۔جب انسان اس اختلاف میں ترقی کرتا ہے۔تو بھی اختلاف اس کے مدارج کی ترقی کا موجب ہوتا ہے اس کی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد کیا ہے اختلاف امتی رحمت جب تک اختلاف میں ترقی نہ ہو۔ہر قسم کی ترقی رک جاتی ہے۔مثلاً ایک انسان ساری دنیا کے لوگوں کو دیکھے کہ سفید چگڑیاں پہنے ہوئے ہیں۔اب اگر اس کی خواہش اس سفید پگڑی تک ہی محدود ہو گی۔تو جب سفید پگڑی میسر آ گئی۔تو پھر خواہش پیدا نہ ہو گی۔یا مثلاً فلالین کا کوٹ دیکھنا ہے جب وہ مل گیا تو ترقی سے رہ جائے