خطبات محمود (جلد 8) — Page 502
502 انسان جب گھر میں ہوتا ہے۔اور اس کے سامنے کوئی واقعہ ہو تو اس کی اور حالت ہوتی ہے۔اور جب سفر میں ہو تو اس کا اثر اور رنگ کا ہوتا ہے اور وہ زیادہ گہرا اثر ہوتا ہے۔غور کرو کہ وطن سے دور جب ایک کام کرنے والے آدمی کو کوئی غم کی خبر پہنچے۔تو اس کی کیا حالت ہو گی۔ایک طرف اس کا فرض مجبور کرتا ہے کہ وہ کام کرے دوسری طرف فکر و غم کی ایک کوفت ایسی ہو جاتی ہے کہ کام چھوڑ کر آرام کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔لیکن باوجود اس کے کام کرنا پڑے تو کیا حالت ہو گی پہلے ہی کام کی کثرت کی وجہ سے ایک منٹ کی فرصت نہیں ملتی اور اس پر نعمت اللہ خان کی شہادت کی خبر پہنچی۔میں جلسہ کا نفرنس کے لئے مضمون لکھ رہا تھا کہ یہ خبر پہنچی۔ایک طرف اس مضمون کی تکمیل کا خیال دوسری طرف یہ صدمہ اور پھر سلسلہ کے اغراض کے لئے اس خبر کی عام اشاعت اور اس پر مناسب کارروائی کرنا ایک بہت بڑا کام ہو گیا۔پھر اسی سلسلہ میں قادیان میں ہیضہ کے کیس ہو جانا۔اور ملیریا کا حملہ اور ہیضہ اور ملیریا سے بعض موتوں کا ہو جانا بہت تکلیف دہ امر تھا۔اور یہ سب کچھ اسی طرح ہوا۔جس طرح خدا تعالٰی نے رڈیا میں ظاہر کیا تھا۔ان اسباب سے بعض ہموم اور عموم پہنچے۔ابھی اور بھی بعض امور ہیں وہ خاص باتیں ہیں جن کی طرف میں اشارہ نہیں کرتا۔ایسے خوابوں کا اظہار ضروری نہیں ہوتا کیونکہ کبھی ان کی اشاعت خدا تعالٰی کی غیرت کا موجب ہو جاتی ہے۔میں یہ کہتا ہوں کہ جو حصے معلوم ہوئے تھے اور ابھی باقی ہیں اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل سے تلا دے۔اور ان غموں سے محفوظ رکھے۔اس لئے میں اپنے دوستوں سے بھی کہتا ہوں کہ وہ بھی اس کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے ہموم اور غموں سے ہم سب کو محفوظ رکھے۔اور خیرو عافیت سے یہ سفر پورا ہو میں نے پہلے بھی ظاہر نہیں کیا کہ کس قسم کے خطرات کا خدشہ ہے۔اور اب رویا کے اس حصہ کو بیان کرتا ہوں۔کیونکہ یہ صلح کا طریق نہیں کہ اس قسم کے رویا کو ظاہر کریں۔میں یہی کہتا ہوں کہ دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے صدمات سے محفوظ رکھے۔اکثر لوگوں کے خطوط گھبراہٹ کے آتے ہیں کہ آپ یہاں نہیں ہیں۔اور ہم کو بھی بیماری وغیرہ کے حالات سن کر گھبراہٹ ہوتی ہے کہ ایسے موقعہ پر وہاں نہیں ہیں۔قدرتی طور پر انسان چاہتا ہے کہ ایسے وقت میں اپنے دوستوں اور عزیزوں میں ہو۔بھیرہ ہی کا واقعہ ہے کہ اس کی خبر سے تشویش ہوئی ایسے نازک وقت میں وہاں ہونا ضروری معلوم ہوتا تھا۔مگر کسی کو کیا علم تھا کہ کوئی ایسا واقعہ ہو جائے گا۔ایک شخص نے مجھے کو اس واقعہ کے بعد خط لکھا کہ اب خلافت کی ضرورت کا علم ہوا