خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 501 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 501

501 بڑھے گی۔اسی قدر اس فتح کا دائرہ بڑھے گا۔خدا تعالٰی کی یہ سنت ہے کہ آہستہ آہستہ ترقی ہوتی ہے پس اس وقت جو جلسہ مہوتسو میں کامیابی ہوئی تھی۔آج اس کے اثر اور وسعت کی شان کو دیکھتے ہیں۔تو اس فتح کا مرتبہ بہت بڑھ جاتا ہے۔اسی طرح پر اس جگہ آنے کے جو اغراض ہمارے تھے۔ممکن ہے کہ بعض کا جوڑ نظر نہ آئے۔اور اگر غور کریں تو آبھی سکتا ہے۔لیکن خدا تعالٰی نے جماعت کا نام جس طرح پر بلند کیا ہے۔وہ بہت بڑی کامیابی ہے۔اور خدا تعالٰی اپنے فضل سے اس کے اثرات اور اس کے دائرہ کو جس رنگ میں چاہے بڑھائے گا اور اس نے آپ بعض ایسے اسباب پیدا کر دیئے کہ انگلستان کی پبلک کو سلسلہ کی طرف خصوصیت سے توجہ ہو گئی۔ہمارے آنے کے ساتھ کچھ ایسا سلسلہ شروع ہو گیا کہ لوگوں کے سامنے یہ سلسلہ بار بار آنے لگا۔ہمارے آنے کے تھوڑے دنوں بعد ہی نعمت اللہ خان شہید کا واقعہ ہو گیا۔اگر ہم قادیان میں ہوتے اور یہ واقعہ ہو جاتا تو انگلستان میں یہ اثر نہ ہوتا اور اگر ہمارے یہاں آنے پر نہ ہوتا تو بھی جس قدر اثر اب ہوا ہے نہ ہو سکتا۔پہلے بھی اسی کابل میں دو شہادتیں ہو چکی ہیں۔ایک ان میں سے اپنے مرتبہ کے لحاظ سے بہت بڑھ کر تھی۔مگر اس شہادت کا یورپ پر کوئی اثر نہیں ہوا۔کیونکہ نہ یہاں جماعت تھی۔اور نہ سلسلہ کی ابھی یہاں شہرت ہوئی تھی۔مگر اب جبکہ میں خود یہاں موجود تھا۔اور یہاں کی پبلک سلسلہ کی عظمت سے واقف ہو چکی تھی۔نعمت اللہ خان کے واقعہ نے سونے پر سہاگہ کا کام کیا۔غرض ہمارے آنے سے ایک حصہ پورا ہو گیا۔ایک شخص نے مجھ کو کہا کہ اگر آپ دس ہزار پونڈ بھی خرچ کر دیتے تو اس قدر کامیابی نہ ہوتی۔جیسی کہ اب ہوئی ہے کہ ہر شخص کی زبان پر سلسلہ کا نام ہے۔اور لوگ یقین کرتے ہیں کہ احمدی جماعت کوئی معمولی تحریک نہیں۔بلکہ وہ ایک عظیم الشان جماعت ہے اور یہ خدا کا فضل ہے۔جس طرح پر مجھ کو یہ معلوم ہوا تھا کہ یہ سفر سلسلہ کی ترقی کا موجب ہو گا۔مجھے اس کے ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ بعض رنجیدہ امور بھی واقع ہوں گے میں نے اشتہار میں لکھا تھا کہ اگر کسی کو میری حالت کا علم ہو تو اسے رونا آجائے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ مجھے رویا میں بعض ایسے امور معلوم ہوئے تھے کہ بعض ہموم اور عموم اپنے اندر رکھتے تھے۔اس وقت ان کی کیفیت بیان نہ ہو سکتی تھی۔مگر اب واقعات نے بتایا کہ اس سفر میں قادیان سے بعض مخلص دوستوں کی وفات کی خبر آئی اور بعض عزیز بھی فوت ہو گئے اور نعمت اللہ خان کی شہادت کا واقعہ ایسا ہے کہ اس کا اثر تمام جماعت سے تعلق رکھتا ہے۔