خطبات محمود (جلد 8) — Page 495
495 قبول کر لیتا ہے۔ گو ان کا قومی کریکٹر سے تعلق نہیں ہوتا۔ وہ علم و فن کی باتیں ہیں۔ اور ان کو لے لینا نہ صرف درست بلکہ ضروری ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے۔ کلمة الحكمة ضالة المؤمن ۳۰ حکمت مومن ہی کی گم شدہ چیز ہوتی ہے وہ ہم اپنی ہی چیز لیتے ہیں۔ پس میں یہ نہیں کہتا کہ دوسری قوموں سے کچھ بھی نہ لو۔ نہیں بلکہ جو چیز تم ان میں علم و حکمت کی دیکھو اسے اپنی ہی چیز سمجھ کر لے لو۔ اور دیکھ لو کہ اس کا کوئی تعلق شعار مذہبی اور قومی کریکٹر سے تو نہیں ہے۔ ایک ڈاکٹر کہتا ہے کہ تم بارہ بجے تک لیٹے رہو۔ اور آرام کر لو۔ تو تم کبھی نہیں کہتے کہ ساڑھے گیارہ تک کیوں نہ لیٹیں۔ یا وہ ایک دوائی کے سات قطرے کہتا ہے تو کبھی نہیں کہتے کہ پانچ کیوں نہیں۔ یہ تفاصیل ہیں۔ جن کو تجربہ بتاتا ہے کہ اس قدر تعداد ضروری ہے۔ اسی طرح قومی کریکٹر کے ساتھ دلیل کا تعلق نہیں ہو تا گو وہ بے دلیل نہیں ہوتا) بلکہ اس کو قومی شعار سمجھ کر اور ایک تجربہ کار معلم اور ہادی کے عمل اور حکم کے ماتحت دیکھ کر اختیار کرنا ہوتا ہے۔ غرض یہ بات نہایت افسوس ناک ہے کہ وہ لوگ جو یہ عوی کرتے ہیں کہ ہم نے دنیا کو فتح کرنا ہے۔ جب یہاں آتے ہیں۔ تو شہر میں داخل ہونے سے پہلے ہی مفتوح ہو جاتے ہیں۔ ایک لڑکا یہاں میڈیکل تعلیم کے لئے آیا میرے ساتھ اس کو بڑی محبت تھی خواجہ صاحب کی ایک تصویر اس نے دیکھی۔ جس میں ان کی ڈاڑھی چھوٹی تھی۔ اس کو بہت ہی ناگوار گزرا اور کہا کہ میں وہاں جا کر دکھا دوں گا۔ میں نے اس کو منع کیا کہ ایسے دعوی نہ کرو۔ لیکن جب وہ آیا تو اس نے پورٹ سعید ہی میں اپنی ڈاڑھی منوائی۔ جب قومی حالت یہ ہو کہ تم دوسروں کے ایسے غلام بن جاؤ جیسے ایک کتا میم کے پیچھے چلتا ہے۔ تو پھر تم نے دنیا کو کیا فتح کرنا ہے۔ میں اپنے نفس میں سمجھتا ہوں کہ جو لوگ دوسروں کے اتنے غلام ہیں۔ ان کا آزادی کا دعوئی ایک خیالی دعویٰ ہے۔ مگر میں اپنی ذات پر اس قدر اعتماد رکھتا ہوں۔ اور میرے دل میں ہے کہ اگر آدھا ہندوستان بھی اپنے قومی کریکٹر کو مضبوطی سے پکڑے تو ایک دن میں آزاد ہو سکتے ہیں۔ ایک نے مجھ سے سوال کیا کہ گاندھی ناکام ہوا۔ میں نے کہا کہ مجھے تین لاکھ آدمی دو میں خون کا ایک قطرہ بھی گرانے کے بغیر ہندوستان کو آزاد کرا دیتا ہوں۔ اور میں عدم تعاون نہیں کراؤں گا۔ بلکہ تعاون کراؤں گا۔ اگر پچاس ہزار ایسے آدمی ہوں۔ جو ملک کے لئے نوکریاں کریں۔ اور ان کا مقصد یہ ہو کہ ہم نے ملک کی خدمت کرتی ہے۔ تب وہ جھوٹی رپورٹیں نہ کریں گے۔ اور ان کی صحیح رپورٹوں کا ایسا اثر ہو گا کہ حکومت کا معاملہ ہمارے ساتھ سیدھا ہو گا۔ اور حکومت ہماری ہو جائے