خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 48

48 دشمنوں میں گھرے ہوئے تھے۔قسطنطنیہ میں عیسائیوں کی حکومت تھی اور یہ آدھی دنیا پر چھائے ہوئے تھے۔اور ادھر ایران میں جو حکومت تھی اس کا بھی آدھی دنیا پر اثر تھا۔اس وقت مسلمانوں پر ہر طرف سے حملے ہو رہے تھے لیکن مسلمان تلواروں کے مقابلہ میں نہیں ڈرتے تھے تو کیا آج ہم دشمن کی زبان اور اس کے روپیہ سے ڈر سکتے ہیں پس ہمیں اس کے لئے تیار ہونا چاہیے اور ہر ایک قربانی جس کی ضرورت ہو اس کے لئے آمادہ ہونا چاہیئے۔یاد رکھو قربانیاں کرنے سے ڈرنا نہیں چاہیے۔کوئی قربانی ان انعامات سے جو ملنے والے ہیں۔بڑی نہیں۔مگر اب تک بھی جو انعام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملا ہے۔وہ بھی اتنا بڑا ہے کہ محض اس کے لئے بھی ہم بڑی سے بڑی قربانیاں کریں تو تھوڑی ہیں۔کیا یہ انعام کم ہے کہ ہمارے آقا اور رب نے ہمیں یاد فرمایا ہے اور ہمارا آقا اور پیارا ہم سے محبت کی بات کہتا ہے اور ہمیں یاد کرتا ہے۔مومن کی نظر میں جنت کی کوئی قیمت نہیں وہ خدا کی نگاہ مہر کو ہی جنت سمجھتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے آقا رب العالمین نے ہمارے لئے اپنے ایک مامور کو بھیجا کہ اے میرے بندو تم میری طرف آؤ۔کیوں بھٹکتے پھرتے ہو۔اس کی یہ مہربانی ہی کم نہیں مگر اس کے آئندہ رحم و فضل کرنے کے وعدے انسان کو اپنی محبت میں غرق کر دیتے ہیں کہ ہم ایسے پیارے اور معشوق کے لئے کیا کر سکتے ہیں۔ایک شاعر نے شعر کہا ہے۔غالبا اس نے بھی خدا ہی کے لئے کہا ہے اور بہت ہی قابل قدر شعر ہے جان دی دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جان دی ہے۔اور اس نے اس کی راہ میں جان دے دی ہے لیکن یہ کوئی بڑا کام نہیں کیا کیونکہ یہ جان میری نہ تھی بلکہ اسی نے دی تھی۔اس لئے میرا جان دینا کوئی بڑی بات نہیں۔پس اللہ تعالیٰ کے پہلے احسانات کے مقابلہ میں ہماری قربانیاں جو اب تک کر چکے ہیں اور آئندہ جو کریں گے کچھ بھی نہیں کیونکہ اس کا یہی ایک انعام ایسا ہے کہ اس کا بدلہ نہیں ہو سکتا کہ اس نے اپنا کلام نازل کیا کہ اے میرے بندو میری طرف آؤ یہ اس کی ایک ادا اپنا نظیر نہیں رکھتی۔پس ہمیں اللہ تعالیٰ کی محبت کی قدر کرنی چاہئیے اور اس فرض کو سمجھنا چاہئیے اور خدا کے لئے میدان عمل میں کود پڑنا چاہئیے اور اس بات کو خدا پر چھوڑ دینا چاہئیے کہ کیا ہوگا اور اس کے ارادے کو اپنے ارادوں پر مقدم کرتے ہوئے جو قربانی بھی اس راہ میں طلب کی جائے وہ دینی چاہئیے۔باقی چیزوں کا اللہ والی اور وارث ہو۔آمین۔الفضل ۲۶ مارچ ۱۹۲۳ء)