خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 478

478 اخلاص جو خدا تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ہے وابستہ ہے۔خدا تعالیٰ کے احکام تکلیف کے لئے نہیں ہوتے۔بلکہ ان سے کامیابی اور ابدی راحت وابستہ ہوتی ہے اگر چار پائی پر بیٹھ رہنے یا سونے سے کامیابی ہو تو خدا یہی حکم دیتا۔انسان بعض اوقات اس حقیقت کو نہیں سمجھتا۔اور دھوکہ کھاتا ہے۔خدا تعالیٰ انسان کو مشقتوں میں ڈالنا نہیں چاہتا۔بلکہ خدا تعالیٰ تو انسان کے لئے پسر پسند کرتا ہے۔ہاں انسان اپنی نادانی سے صحیح راستہ اور صحیح ذرائع کو چھوڑ کر خود مصیبتوں اور مشقتوں میں پڑ جاتا ہے۔ہاں یہ بیچ ہے کہ بعض اوقات کامیابیوں کا صحیح ذریعہ مختلف قسم کی مشقتیں بھی ہوتی ہیں اور کئی قسم کی قربانیاں اسے کرنا پڑتی ہیں۔لیکن ان مشقتوں اور قربانیوں میں اسے تکلیف نہیں ہوتی۔بلکہ دل امید اور خوشی سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔جو اپنے مقصد کی کامیابی کی ہوتی ہے اس لئے وہ ان کو شوق اور جوش سے اختیار کرتا ہے۔پس میں اپنے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ صرف اتنی ہی بات پر خوش نہ ہوں کہ انہیں راستہ مل گیا ہے۔یا وہ حصول مقصد کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔بلکہ انہیں دیکھنا چاہیئے کہ کیا وہی طریق کامیابی کا ہے۔جس پر وہ چل رہے ہیں۔اگر نہیں تو انہیں فکر کرنی چاہیئے کہ ان کی محنت وقت اور روپیہ ضائع نہ ہو۔صحیح اسباب محنت کو کم کر دیتے ہیں۔بعض دو گھنٹہ میں کام ختم کر لیتے ہیں۔جبکہ کام کرنے کا صحیح طریقہ انہیں معلوم ہو۔اور بعض پندرہ گھنٹہ بھی کام کر کے ختم نہیں کر سکتے اور اس کا کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوتا۔ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا کہ ابوبکر کی فضیلت اس وجہ سے ہے جو اس کے دل میں ہے ا۔اس کا یہی مطلب ہے کہ ابو بکر اپنے اخلاص و وفا کے ساتھ جو خدمت دین کی کرتے ہیں وہ عقل اور فکر سے سوچ سمجھ کر ایسے طریق سے کرتے ہیں۔جو کامیابی کا موجب ہوتی ہے۔یاد رکھو کہ ایک شخص ساری نماز پڑھتا ہے۔مگر اس میں خشیت یدا نہیں ہوتی۔وہ اس کے برابر نہیں جو ایک بار سبحان اللہ کہتا ہے۔اور اس کے ساتھ ہی اس کا قلب پکھل جاتا ہے۔اور یہ بات صرف صحیح طریق کے حاصل ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔پس اپنے تمام کاموں میں ان امور کو نظر رکھو کہ بغیر اس کے کامیابی مشکل ہے۔پھر یہی نہیں کہ ناکامی ہوتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ایک سوزش اور جلن ہوتی ہے۔جو انسان کو اپنی محنت وقت اور روپیہ کے صرف کرنے سے ہوتی ہے۔