خطبات محمود (جلد 8) — Page 475
475 73 (۵) ستمبر مسجد پیٹی لنڈن) کامیابی کے لئے صحیح ذرائع کی ضرورت شهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا سورہ فاتحہ کی جس کو ہم بار بار پانچوں وقت نماز میں پڑہتے ہیں ایک آیت ہے۔جو دشمنوں کے لئے ہمیشہ ٹھوکر کا موجب ہوتی رہی ہے۔ہمارے لئے بہت ہی قابل غور ہے۔اور وہ اھدنا الصراط المستقیم ہے۔ایک مسلمان جو اسلام قبول کر چکا ہے۔بلکہ اسلام کے موافق زندگی بسر کرنا چاہتا ہے۔اور اپنے وقت اور آرام کی قربانی کرنا چاہتا ہے۔جب عبادت کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔تو کس غرض کے لئے دعا کرتا ہے۔یہ سوچنے کے قابل بات ہے۔اهدنا الصراط المستقیم کے معنی کئی رنگ میں کئے جاتے ہیں۔ایک مشہور معنے تو یہ ہیں کہ ہدی کے تین معنے ہیں۔رستہ دکھانا۔اس پر چلانا۔چلاتے رہنا۔ایک شخص جو نہیں جانتا کہ سچا مذہب کون سا ہے۔وہ جب اهدنا الصراط المستقیم کی دعا کرتا ہے۔تو اس کا مطلب اور مقصد یہ ہے کہ حقیقی مذہب کا راستہ دکھا۔اور جو مذہب قبول کر چکا ہے۔اس کی دعا یہ ہوگی کہ اس پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔اور جس کو توفیق ملی ہے۔اس کی دعا اس غرض سے ہے کہ اس توفیق عمل کو قائم رکھ کر اس صحیح راستہ پر چلاتا ہی رہ اور اس طرح پر استقامت عطا کر۔یہ عام اور مشہور معنے ہیں۔جو کئے جاتے ہیں۔اور اپنی جگہ درست ہیں۔لیکن اس کے ایک اور معنی بھی ہیں جس کی حقیقت نہ سمجھنے کی وجہ سے مسلمانوں کو بھی اور دوسرے لوگوں کو بھی دقتیں پیدا ہوتی ہیں میرے خیال میں بہت سے لوگ مسلمانوں میں بھی اور دوسری اقوام میں بھی ایک غلطی میں مبتلا ہیں۔اور وہ اس غلطی کو یہی نہیں کہ غلطی نہیں سمجھتے بلکہ