خطبات محمود (جلد 8) — Page 472
472 پھر بہت لوگ ہوتے ہیں جن میں عفو کی طاقت نہیں ہوتی۔اگر وہ کسی بات میں عفو نہ کر سکیں۔تو صبر سے کام لیں۔عضو تو یہ ہوتا ہے کہ بات کو بالکل مٹا دیا جائے۔اور صبر یہ ہوتا ہے کہ دوسرے وقت تک اس کے متعلق انتظار کیا جائے۔پس وہ انتظار کریں۔جب تک کہ خلیفہ کو خدا تعالیٰ خیرت سے واپس لائے۔پھر قادیان آنے کے لئے بیرون جات کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں۔قادیان با برکت جگہ ہے۔اور اپنی ذات میں بابرکت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس میں رہتے تھے۔اور اب آپ کا مزار اس میں ہے۔پھر اس میں وہ مسجدیں ہیں۔جو مبارک ہیں پس احباب یہاں پہلے کی طرح ہی آئیں۔بلکہ پہلے سے بھی زیادہ آئیں۔تاکہ کارکنوں کو کام میں ان سے مدد ملے پھر ہر جگہ کے کارکنوں کو چاہیئے کہ لوگوں کو ایثار اور قربانی کی تعلیم دیں اور تبلیغ کی طرف توجہ دلائیں۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں۔کلکم راع و کلکم مسئول کہ تم گڈریئے ہو۔اور سب سے خدا تعالیٰ سوال کرے گا کہ تم نے کیا کام کیا۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ ہماری جماعت کے سب کے سب لوگ اپنے کام کو سمجھیں اور اسے کرنے کی پوری پوری کوشش کریں پھر میں یہ کہتا ہوں کہ خصوصیت سے ہماری کامیابی کے لئے دعاؤں پر زور دیں۔ہر ایک انسان انسان ہے۔خواہ وہ کتنا بڑا ہو۔اور سوائے اس کے کہ خدا سے مدد آئے۔کوئی انسان کچھ نہیں کر سکتا۔میں نے جو انتظام کیا ہے۔نہایت دیانتداری سے کیا ہے اور آپ لوگوں سے امید ہے کہ آپ اس کو کامیاب بنانے میں ہر طرح مدد دیں گئے اور دعاؤں سے ہماری مدد کریں گے کہ خدا تعالیٰ ہر قسم کے شرور سے محفوظ رکھ کے اس سفر کو کامیاب بنائے جس کام کے لئے ہم جا رہے ہیں۔وہ کوئی معمولی کام نہیں۔بلکہ عظیم الشان کام ہے۔اور جب تک خدا تعالیٰ کی نصرت نہ ہو۔کامیابی نہیں ہو سکتی۔ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ اس سفر کے فوری نتائج نہیں نکل سکتے۔کیونکہ کسی سکیم کے نتائج فوری نہیں ہوا کرتے دیکھو ایک کمانڈر جب کوئی سکیم تیار کرتا ہے۔تو اسی وقت اس کے نتائج نہیں نکل آتے۔بلکہ اس کے مطابق لڑائی لڑنے کے بعد نکلتے ہیں۔یہ سفر جس طرح بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے۔اسی طرح بعض ایسے کو تاہ اندیشوں کے لئے۔ٹھوکر کا باعث بھی ہو سکتا ہے۔جو یہ خیال کریں کہ ادھر ہم یورپ گئے۔اور ادھر بادشاہ بیعت کرنے کے لئے آجائیں۔میں اس لئے نہیں جا رہا۔اور جو اس خیال سے جاتا ہے۔وہ خدا تعالی کا امتحان کرتا ہے۔اور وہ مستحق ہے۔کہ ٹھو کر کھائے اور ابتلا کے گڑھے میں ڈالا جائے۔پس میں اس لئے نہیں جاتا کہ بادشاہ بیعت میں