خطبات محمود (جلد 8) — Page 470
470 نہیں سمجھتے لیکن ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم انہیں باخدا انسان بنائیں گے۔اس سے سمجھ لو کہ ہمارا کام کس قدر اہم ہے۔ایسے اہم کام کے لئے ہم جب تک مستقل سکیم تیار نہیں کرتے اس وقت تک کامیابی کے امیدوار بھی نہیں ہو سکتے۔یورپ میں تبلیغ اسلام کا سوال ایک یا دو دن میں حل ہونے والا سوال نہیں۔بلکہ صدیوں کا سوال ہے لیکن اگر ہم غلط رستہ پر چلیں گے۔تو صدیاں کیا۔ہزاروں سال میں بھی حل نہیں کر سکیں گے۔اس وقت ہمارے سفر کی غرض یہ نہیں کہ یورپ کو مسلمان کر آئیں۔بلکہ یہ ہے کہ اس بات پر غور کریں کہ مغربی ممالک کس طرح اسلام کو قبول کر سکتے ہیں۔گویا ہمارا یہ سفر تشخیص مرض کے لئے ہے نسخہ کے لئے نہیں۔یورپ میں دو قسم کے ڈاکٹر ہوتے ہیں ایک مرض کی تشخیص کرتے ہیں اور دوسرے نسخہ دیتے ہیں۔خلیفہ کا کام مرض کی تشخیص کرنا اور علاج تجویز کرنا ہے۔اس کے بعد دوسرے لوگ جو خلیفہ سے کم حیثیت رکھتے ہیں۔وہ نسخے دیں گے۔پس یہ سفر اس لئے نہیں کہ ہم جا کر اہل یورپ کو کلمہ پڑھا آئیں۔گو یہ بھی نہیں کہ اگر کوئی پڑھنا چاہے۔تو بھی نہیں پڑھائیں گے۔مگر اس سفر کی غرض یہ نہیں۔اگر اس سفر میں بھی خدا تعالٰی بعض روحوں کو ہدایت دے دے تو یہ اس کا احسان اور فضل ہو گا۔مگر ہماری یہ غرض نہیں کہ چند لوگوں کو مسلمان بنا آئیں۔بلکہ یہ ہے کہ کون سا طریق ہے کہ جس سے ساری دنیا کو مسلمان بنا ئیں اتنی بڑی غرض بغیر قربانیوں کے حاصل نہیں ہو سکتی۔حضرت مسیح کہتے ہیں۔یہ دیو روزے اور قربانی سے نکلتے ہیں۔مگر ان کے زمانہ کے دیو بہت کمزور تھے جن کی ایک چھیڑ سے جان نکل سکتی تھی۔لیکن جن دیوؤں سے ہمیں مقابلہ پڑا ہے۔وہ بہت خطرناک ہیں اور انہیں ہم روزے اور دعاؤں کے بغیر نہیں نکال سکتے۔یہاں روزے کے یہ معنی ہیں کہ خود بھوکے رہیں اور مال دین کے لئے خرچ کر دیں۔دیکھو حضرت مسیح کے حواریوں کے ایک حصہ نے اس کو کس طرح پورا کیا۔وہ فقیر کہلائے لیکن اس لئے نہیں کہ مانگتے پھرتے تھے بلکہ اس لئے کہ جو کچھ ان کے پاس ہوتا۔وہ خرچ کر دیتے۔ہمارا مسیح تو اس مسیح سے بڑھ کر تھا جیسا کہ آپ نے فرمایا ہے۔مسیح محمدی مسیح ناصری سے تمام شان میں بڑھ کر ہے۔پس جس طرح ہمارا مسیح مسیح ناصری سے بڑھ کر ہے۔اس طرح آپ کی جماعت کو بھی مسیح ناصری کی جماعت سے بڑھ کر ہونا چاہیئے۔امید ہے کہ آپ لوگ اس فضیلت کو ثابت کر دیں گے۔اور دین کے رستہ میں قربانی کرنے میں کوئی چیز تمہارے رستہ میں حائل نہ ہوگی پھر دعائیں بھی کریں گے کہ خدا تعالٰی ہمیں اپنے مقصد میں کامیاب کرے۔