خطبات محمود (جلد 8) — Page 469
469 کام لیا جا سکتا ہے ان ہر قسم کی عادتوں کو دیکھنا ہے اور یہ کوئی معمولی کام نہیں۔بلکہ ایک بنیاد ہے جو آئندہ سلسلہ کے لئے رکھی جاتی ہے لکھا ہے۔W شاہجہان کی بیوی نے اپنے فوت ہونے سے پہلے خواب دیکھی کہ ایک ایسا مقبرہ ہے جس میں میں دفن ہوئی ہوں۔جب اس نے بادشاہ کو یہ خواب سنائی۔تو اس نے انجینئروں کو بلا کر کہا۔ایسا مقبرہ تیار کرو انجینئروں نے کہا کہ یہ نہیں بن سکتا۔جب بادشاہ مایوس ہو گیا۔تو ایک شخص آیا اور آ کر کہا۔میں ایسا مقبرہ بنا سکتا ہوں مجھے وہ جگہ دکھا دی جائے۔جہاں مقبرہ بننا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اس جگہ تک کشتی میں بیٹھ کر چلیں اور کشتی میں ایک لاکھ روپیہ کی تھیلیاں رکھ دی جائیں۔بادشاہ نے اس شرط کو منظور کر لیا۔جب کشتی میں بیٹھ کر چلے تو اس نے ایک تھیلی اٹھائی۔اور روپے دریا میں بکھرتے ہوئے کہا۔بادشاہ سلامت روپیہ یوں ڈالنا پڑے گا تب مقبرہ تیار ہو گا۔بادشاہ نے کہا۔کوئی پروا نہیں پھر اس نے دوسری تھیلی اٹھائی۔اور اسی طرح کہہ کر دریا میں ڈال دی۔حتی کہ دریا کے دوسرے کنارے پہنچنے تک ایک لاکھ روپیہ دریا میں ڈال دیا بادشاہ نے کہا کہ بے شک اسی طرح خرچ کرو۔مگر مقبرہ ضرور بنا دو۔کنارے پر جا کر اس نے کہا کہ اب ضرور مقبرہ بن جائے گا۔دوسرے انجینئر اسی لئے کہتے تھے۔نہیں بنے گا کہ آپ خرچ سے گھبرا جائیں گے لیکن میں نے تجربہ کر لیا ہے۔جب ایک لاکھ روپیہ دریا میں ڈال دینے سے آپ کے ماتھے پر بل بھی نہیں پڑا تو مقبرہ ضرور تیار ہو جائے گا۔چنانچہ اس نے تیار کرا دیا۔اور شاہجہان کی بیوی نے دیکھ کر کہا کہ ایسا ہی میں نے خواب میں دیکھا تھا۔وہ ایک مقبرہ تھا جس کے لئے ایک لاکھ روپیہ کی تھیلیاں دریا میں پھینکی گئی تھیں اور کئی لوگ سمجھتے ہوں گے۔مقبرہ کی کیا حقیقت ہے۔لیکن ہم نے مقبرہ نہیں بلکہ زندگی کے گھر بنانے ہیں۔پھر ایک نہیں بلکہ اربوں۔۔۔لیکن باوجود اس کے کئی لوگ سمجھتے ہیں۔بیٹھے بٹھائے یہ کام ہو جائے گا۔اگر ہم نے دنیا کو فتح کرتا ہے۔اور ان لوگوں کے قلوب پر قبضہ پانا ہے جن کے سامنے ہماری اتنی بھی حیثیت نہیں۔جتنی ان کے نزدیک اپنے گھر کے جانوروں کی ہے۔تو سمجھ لو۔ہمارا کام کس قدر مشکل اور کتنا بڑا ہے۔انگلستان کا ایک امیر ہیں ہزار کو کتا خریدنے کے لئے تیار ہو جائے گا اور تیس ہزار پر گھوڑا خرید لے گا۔مگر دس ہزار پر کسی ہندوستانی کو خریدنے کے لئے تیار نہ ہو گا۔مگر باوجود اس کے ہم سمجھتے ہیں۔ان لوگوں کو ہم نے احمدی بنانا ہے۔وہ ہمیں جانوروں سے بدتر سمجھتے ہیں۔لیکن ہم کہتے ہیں۔ان کے گلے میں ہم نے پٹے ڈالنے ہیں۔وہ ہمیں انسان ہی