خطبات محمود (جلد 8) — Page 467
467 آئے اس لئے ان کا نام نہیں لیا۔وہ نواب محمد علی خان صاحب ہیں۔آج کل اگرچہ وہ قادیان میں ہی ہیں مگر ابھی اپنا کام ختم کر کے نہیں آئے۔اگر اس عرصہ میں کام کو ختم کر کے آجائیں تو وہ بھی مشوروں میں شامل ہوں۔میں امید کرتا ہوں کہ جن لوگوں کے سپرد کام کیا گیا ہے۔وہ اسے اخلاص سے کریں گے۔اور نہ صرف اس بات کو مد نظر رکھیں گے کہ کسی کے دل کو ٹھیس نہ لگے بلکہ میں یہ بھی امید کرتا ہوں کہ وہ دلیری اور جرات دکھانے کے وقت بزدلی بھی نہ دکھائیں گے۔دو ملکے ایسے ہیں جن سے حکومت کی جا سکتی ہے۔ایک یہ کہ انسان نرمی کے وقت نرم ہو جائے اور سختی کے وقت سخت۔اگر کسی میں یہ ملکے نہیں تو وہ حکومت نہیں کر سکتا۔حکومت وہی کر سکتا ہے جو نرمی کے وقت اتنا گرے کہ گویا اس کا اپنا وجود ہے ہی نہیں۔بات دیکھے اور ہنس دے۔قصور وار پائے اور چھوڑ دے۔لیکن جب سختی کا موقعہ ہو تو یکدم اس طرح مضبوطی کے ساتھ باگیں پکڑ لے جس طرح شاہسوار تیز رفتار گھوڑے کی ڈھیلی چھوڑی ہوئی باگوں کو ضرورت کے وقت معا کھینچ لیتا ہے۔جب تک کسی میں یہ مادہ نہ ہو کہ وہ سمجھ سکے کس وقت ڈھیل دینی چاہیئے اور کس وقت پکڑ لینا چاہیئے اور جب تک یہ ہمت نہ ہو کہ جب سمجھے کہ اب ڈھیل دینے کا موقع نہیں اور اس وقت ایسا سخت ہو جائے کہ ساری دنیا کی طاقتیں بھی اسے ہلا نہ سکیں۔اس وقت تک انتظام نہیں کر سکتا۔میں امید کرتا ہوں کہ وہ لوگ جن کے سپرد کام کیا گیا ہے۔ان دونوں باتوں کو مد نظر رکھیں گے۔وہ ایک طرف تالیف قلوب کو مد نظر رکھیں لیکن دوسری طرف اگر دیکھیں کہ نرمی سلسلہ کے لئے مضر ہے تو ایسی عمدگی سے حقیقی رستہ پر کام کریں کہ کوئی طاقت انہیں ہلا نہ سکے۔یہی طاقت کسی کو حاکم بناتی ہے اور اسی سے انتظام قائم رہتا ہے۔دیکھو جب حضرت موسیٰ پہاڑ پر گئے تو بنی اسرائیل نے بت پرستی شروع کر دی۔خدا تعالٰی نے حضرت موسیٰ کو بتایا کہ جا دیکھ تیرے پیچھے بنی اسرائیل کو کیا ہو گیا۔جب وہ آئے تو دیکھا کہ بنی اسرائیل نے بت رکھے ہوئے ہیں۔اور ان کی پرستش کر رہے ہیں۔انہوں نے حضرت ہارون سے پوچھا یہ کیا بات ہے اور تو نے ان کو کیوں نہ روکا۔انہوں نے کہا کہ میں نے اس لئے نہیں روکا کہ تم کہو گے تو نے بنی اسرائیل میں فساد ڈال دیا۔یہ نرمی تھی مگر حد سے بڑھی ہوئی حالانکہ کوئی وقت ایسا بھی آجاتا ہے جب یہ بھی پروا نہیں کی جا سکتی کہ ایک بھی بچتا ہے یا نہیں۔اور جب تک ایسی ہمت نہ ہو کہ ایسے موقع پر کسی کی پروا نہ کی جائے۔اس وقت تک انتظام قائم نہیں رہ سکتا۔اور جس کو