خطبات محمود (جلد 8) — Page 466
466 مسیح موعود سے خاص اخلاص رکھتے ہیں۔میر محمد اسحاق صاحب نے تو حضرت مسیح موعود کے سایہ میں عمر بسر کی ہے اور ان کی حالت ایسی ہی تھی جیسی مسیح موعود کے باقی بچوں کی۔وہ ہماری طرح ہی حضرت مسیح موعود کے گھر میں رہے۔باتیں سنتے رہے۔اور حالات کا مطالعہ کرتے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انہیں ذہن رسا بھی دیا ہے۔سلسلہ کے کاموں کے متعلق ان میں غیرت بھی ہے۔اللہ تعالٰی سے امید ہے کہ ان کو توفیق دے گا کہ سلسلہ کے لئے مفید ہو سکیں۔مولوی محمد اسمعیل صاحب حضرت مسیح موعود کی کتابوں کو یاد رکھنے کی وجہ سے اس قابل ہیں کہ مشوروں میں انہیں شریک کیا جائے کیونکہ وہ ہمارے قانون دان ہیں۔ایڈیٹر فاروق و ایڈیٹر نور اپنے اپنے رنگ میں اچھی خدمت کر رہے ہیں۔ایڈیٹر صاحب فاروق غیر احمدیوں کے مقابلہ میں اور ایڈیٹر صاحب نور غیر مذاہب کے مقابلہ میں خوب کام کر رہے ہیں۔ایڈیٹر اور بھی ہیں جیسے الفضل کے ایڈیٹر لیکن مشوروں میں عمر کی بڑائی کا سوال بھی ہوتا ہے۔اور اس کو بھی مد نظر رکھنا پڑتا ہے دوسرے ایڈیٹروں کو اس لئے شامل نہیں کیا گیا کہ وہ ایڈیٹر ہیں۔اگر یہ وجہ ہوتی تو اوروں کو بھی شامل کیا جاتا بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ اچھی عمر گزارنے کی وجہ سے ان کے تجربہ میں اضافہ ہو گیا ہے۔اس لئے وہ مشورہ دے سکتے ہیں۔ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب نے حضرت مسیح موعود کو بالکل ابتدائی زمانہ میں قبول کیا اور اس وقت سے برابر سلسلہ کے ساتھ ان کا تعلق رہا ہے۔یہ ڈاکٹر عبدالحکیم کے ذریعہ داخل سلسلہ ہوئے تھے۔وہ تو مرتد ہو گیا۔مگر یہ اپنے اخلاص میں دن بدن بڑھتے گئے۔جب یہ احمدی ہوئے تو کالج میں ہی انہوں نے انجمن بنائی اور تبلیغ شروع کر دی۔حضرت مسیح موعود نے انہیں ان 12 آدمیوں سے قرار دیا ہے جنہیں کہا ہے کہ یہ میرے حواری ہیں۔ماسٹر عبدالرحمن صاحب کا را آمد کارکن ہیں۔تبلیغ کا انہیں ایسا جوش ہے کہ بعض لوگوں کی نظروں میں جنون کی حد تک پہنچا ہوا ہے۔ایسے آدمی ست لوگوں کو ہوشیار کرنے کے لئے بہت مفید ہوتے ہیں۔غرض یہ سارے کہ سارے ایسے ہیں کہ جو سلسلہ کا کام اچھا کر سکتے ہیں۔ایک اور صاحب ہیں۔جن کا نام میں نے اس وقت نہیں لیا۔وہ حضرت مسیح موعود کے پرانے مخلصوں میں سے ہیں۔بلکہ آپ سے انہیں اور بھی تعلقات ہیں لیکن چونکہ ابھی وہ قادیان میں نہیں