خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 420

420 ہے۔اما بنعمت ربک فحدث (الضحی (۱۲) یعنی اے انسان جو انعام اور نعمتیں خدا نے تم کو دی ہیں۔ان کا شکر کر اور ان کو لوگوں میں ظاہر کر اور بتا کر میرے رب نے مجھ کو یہ نعمت دی ہے۔پس خدا تعالیٰ کی نعمت کو لوگوں میں ظاہر کرنا چاہیئے یہ نہیں کہ جو روپیہ ملے۔اس کو ایک ہی شاخ میں خرچ کر دینا چاہیئے اور دوسری شاخوں کو نظر انداز کر دینا چاہیئے۔مثلاً جو روپیہ آتا ہے۔اگر وہ قیموں پر ہی خرچ کر دیا جائے۔اور دیگر شاخوں کا لحاظ نہ رکھا جائے۔تو سلسلہ میں جلد ہی تباہی آجائے۔اگرچہ تیموں کا خیال رکھنا ضروری ہے اور اسی وجہ سے اب بھی ۴۰ ہزار روپیہ سالانہ کے قریب ان پر خرچ کیا جاتا ہے۔اور اس کے علاوہ وہ روپیہ بھی ہے جو الگ الگ جماعتوں کے ذریعہ سے خرچ کیا جاتا ہے اگر وہ بھی ملا لیا جائے۔تو نصف چندہ کے برابر ہو جاتا ہے۔موجودہ صورت میں ہم بتا ئی کا جس قدر خیال رکھ سکتے ہیں۔اتنا رکھا ہوا ہے۔لیکن اگر ہم یہ خیال کر لیں کہ چندہ کا جس قدر روپیہ آئے۔وہ یتیموں پر ہی خرچ کر دیں۔اور دیگر سلسلہ کے کام روک دیں۔مثلاً لنگر خانہ بھی بند کر دیں۔تبلیغ پر خرچ نہ کریں۔نہ ہی تألیف و تصنیف پر خرچ کریں۔تو نتیجہ یہ ہو کہ سلسلہ چند دن میں تباہ ہو جائے۔سلسلہ کو قائم رکھنے کے لئے مختلف رنگوں میں کام ہو رہا ہے اور مختلف طریقوں سے اس کو قوت پہنچائی جا رہی ہے۔اور یہ ضروری ہے کہ سلسلہ کے قیام کے لئے ساری شاخوں کا خیال رکھا جائے اس میں شک نہیں کہ بتائی کا معاملہ نہایت ضروری ہے۔اس کا خیال رکھنا ایک لابدی امر ہے۔اور اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نصف کے قریب چندہ نیا طبی پر خرچ کرتے ہیں۔اگرچہ ہمارا ان پر خرچ کرنا عام لوگوں پر ظاہر نہیں ہوتا۔کیونکہ ہم نے کوئی یتیم خانے نہیں بنائے ہوئے اور نہ ان پر بورڈ لگائے ہوئے ہیں۔جن سے ظاہر ہو کہ اتنے یتیم خانے یہاں ہیں اور اتنے یتیم ان میں رہتے ہیں۔اور اتنی ہیوائیں ان میں سکونت پذیر ہیں لیکن باوجود اس کے کہ ہم نے ظاہری یتیم خانے نہیں بنائے ہوئے۔پھر بھی میں ۵۶ ہزار کے قریب روپیہ ان پر خرچ کرتا ہوں اور باقی نصف اور صیغوں پر خرچ ہوتا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ جتنا روپیہ بتائی پر خرچ ہوتا ہے اوروں پر خرچ نہیں ہوتا کیونکہ کل چندہ ایک لاکھ ۴۰ ہزار کے قریب ہوتا ہے جس میں سے ۵۶ ہزار قیموں اور بیواؤں پر خرچ ہوتا ہے اور باقی نصف تمام صیغوں پر خرچ ہوتا ہے یہ ضروری ہے کہ تمام صیغوں پر یکجائی نظر رکھی جائے اور سب کا خیال رکھ کے سب پر خرچ کیا جائے کیونکہ اگر ہم ایسا نہ کریں۔اور سب پر روپیہ برابر خرچ نہ کریں۔تو سلسلہ تباہ ہو جائے اور کام رک جائے۔