خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 395

395 فکر میں رہتا ہے۔دیکھو جو نفس کا آرام حاصل کرنے کے لئے کام کرتے ہیں۔وہ نفسانی آرام پا لیتے ہیں اور جو خدا سے ملنے کے لئے کوشش کرتے ہیں۔وہ خدا کو پالیتے ہیں۔یہ ہو نہیں سکتا کہ تم اپنے آپ کو خدا کے لئے نہ لگاؤ اور پھر خدا کی ملاقات کی تمنا میں کامیاب ہو جاؤ۔تم جس شعبے میں چلو گے اور کوشش کرو گے۔اسی میں کامیابی حاصل کر سکو گے پس جو شخص چاہتا ہے کہ اسے بیٹھے بٹھائے لیلتہ القدر کی برکات حاصل ہو جائیں وہ قطعا ان برکات کو حاصل نہیں کر سکتا۔کیونکہ اس کے لئے کوشش اور سعی شرط ہے۔پھر میں کہتا ہوں کہ ایک اور لیلتہ القدر اسلام نے بیان کی ہے اور وہ وہ لیلتہ القدر ہے کہ جو برکتوں کے لحاظ سے اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ رمضان کی لیلتہ القدر کی برکتیں بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔یہ لیلتہ القدر وہ ہے جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ان الله ببعث لهذه الامة على راس كل مائة سنة من يجدد لها دینھا یہ لیلتہ القدر اس مجدد کے زمانے میں جو صدی کے سر پر آتا ہے۔آتی ہے مگر اس سے بھی بڑھ کر ایک اور لیلتہ القدر ہے جو تیرہ سو سال کے بعد آئی اور وہ حضرت مسیح موعود کا زمانہ ہے۔یہ لیلتہ القدر ان تیرہ سولیلتہ القدروں سے جو رمضان میں آئیں اور ان گیارہ لیلتہ القدروں سے جو مجددوں کے زمانے کی صورت میں ہر صدی کے سر پر نمودار ہوئیں۔بڑھ چڑھ کر ہے۔پس وہ زمانہ جس میں حضرت مسیح موعود مبعوث ہوئے سب سے بڑی لیلتہ القدر ہے۔نادان ہیں وہ جو حضرت مسیح موعود کے مقابلہ میں غزالی اور بخاری اور رازی کو پیش کرتے ہیں وہ آپ کی شان سے ناواقف ہیں۔کیونکہ آپ وہ امام ہیں۔جو نہ صرف کسی ایک مجدد سے بلکہ ان تمام مجددوں سے جو تیرہ سو سال میں گذرے بڑھ کر ہیں۔اسی لئے آپ کی لیلتہ القدر اوروں کی لیلتہ القدروں سے بڑھ کر ہے۔کیونکہ اس کی لیلتہ القدر کا زمانہ نبوت والی لیلتہ القدر کے زمانہ سے شروع ہوتا ہے۔اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوسری لیلتہ القدر ہے۔مگر میں پوچھتا ہوں۔تم نے اس نوٹ کی بناء پر جو الفضل میں چھپا۔کتنی خوشیاں منائیں۔اور کتنا شوق ظاہر کیا۔لیکن کیا ایسا ہی شوق اور ایسی ہی خوشی تم نے اس لیلتہ القدر کے لئے جس کی نسبت قرآن کہتا ہے کہ تیرہ سو سال کے بعد ایک لیلتہ القدر آئے گی۔ظاہر کی بتاؤ تم نے اس کے لئے کیا تیاری کی اور اس کی کتنی عزت اور وقعت تمہارے دل میں ہے۔اگر تمہارے دل میں اس کی عزت نہیں تو میں سمجھوں گا کہ تم نے اس لیلتہ القدر کی ایک رسمی عزت کی اور اس کے لئے ایک رسمی خوشی منائی اور اصلی شوق اس لیلتہ القدر کے لئے ظاہر نہ کیا جس کے برکات کے