خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 389

389 ہیں۔لیکن باوجود ان تمام شبہات کے پیدا ہونے کے ہم اس کو ایسا خیال نہیں کرتے کہ یہ روایت صحیح نہیں ہے۔یا اس کا راوی ثقہ نہیں ہے اور ایسا شخص ہے کہ اس کی بات مانی نہ جائے۔پس میں اس روایت کو مان کر تم سے پوچھتا ہوں کہ تم نے اس لیلتہ القدر کے لئے تو اتنا جوش دکھایا۔اور اتنی درخواستیں دعا کے لئے لکھیں لیکن کیا تم اس لیلتہ القدر کی برکات کے حاصل کرنے کے لئے جو در حقیقت نبیوں کا زمانہ ہوتی ہے۔اسی قدر بے چین اور متفکر ہو۔لیلتہ القدر کوئی معمولی رات نہیں۔بلکہ فرشتوں اور برکتوں کے نزول کی رات ہے۔اور یہ وہ رات ہے۔جس کے اندر خدا تعالیٰ نے دعاؤں کی قبولیت کے لئے خاص وقت رکھا ہے وہ اس وقت میں دعاؤں کو سنتا ہے اور ان کو قبول کرتا ہے۔مگر اس لیلتہ القدر میں ہم کو خدا تعالیٰ نے دو سبق دیئے ہیں۔اول یہ کہ اختلاف کرنے اور لڑائی جھگڑا کرنے سے لیلتہ القدر کی برکات دور ہو جاتی ہیں۔اور انسان ان روحانی برکتوں سے جو اس رات میں نازل ہوتی ہیں۔محروم رہتا ہے۔اور اس کا محروم رہنا نہایت بد بختی کی علامت ہے۔کیونکہ وہ شرف اور وہ برکات جو اس میں نازل ہوتی اور انسان کو حاصل ہوتی ہیں وہ ہزار مہینے کی عبادت سے بہتر ہیں اور یہ رات ہزار مہینے کی راتوں سے بہتر ہے۔دوسرے یہ کہ کوئی نعمت بغیر محنت اور کوشش کے میسر نہیں آسکتی۔پس اتنی عظیم الشان برکتوں والی رات جو ایک ہزار مہینے سے بہتر قرار دی گئی ہے۔اور برکتوں اور رحمتوں کے نزول کے لئے معین کی گئی ہے۔کوئی معمولی نعمت نہیں۔ان ہی برکات کے نزول کو مد نظر رکھتے ہوئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خیال ہوا کہ میں اپنے صحابہ کو اس کا صحیح علم دوں۔تاکہ وہ اس میں عبادت کر کے خدا کی رحمتوں اور برکتوں سے سے مالا مال ہو جائیں۔چنانچہ اسی خیال کو مد نظر رکھتے ہو۔آپ ایک دفعہ باہر تشریف لائے۔اور آپ کا ارادہ تھا کہ صحابہ کو وہ راز بتائیں۔لیکن جونہی کہ آپ باہر نکلے آپ نے دو آدمیوں کو لڑتے جھگڑتے دیکھا۔ان کی یہ حالت دیکھ کر آپ لیلتہ القدر کا معین وقت بھول گئے اور آپ کا خیال لڑائی کی طرف لگ گیا۔اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ اس کی برکتوں سے عام لوگ فائدہ اٹھانے سے محروم رہ گئے۔اس سے معلوم ہوا کہ لڑائی اور اختلاف لیلتہ القدر کی برکتوں کو دور کر دیتا ہے۔اور ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہو گیا کہ آپ کے ذہن میں کوئی معین وقت لیلتہ القدر کا نہ تھا۔کیونکہ معین وقت اور تاریخ آپ کے ذہن میں ہوتی تو آپ نہ بھولتے۔آپ کا بھول جانا بتاتا ہے کہ آپ کے ذہن میں کوئی خاص نکتہ تھا۔جس کی بنا پر آپ نے تعبیر کی تھی۔اور وہ نکتہ آپ کو یاد تھا۔لیکن جب آپ اس