خطبات محمود (جلد 8) — Page 384
384 دوبارہ قائم کیا۔یہی مطلب نئی زمین اور نیا آسمان پیدا کرنے کا تھا کہ خدا تعالیٰ کے کلام کو اور اس کی توحید کو دنیا میں پھیلایا جائے۔چنانچہ انجیل میں اسی کی طرف یہ فقرہ اشارہ کرتا ہے کہ ابتداء میں کلام تھا اور کلام خدا کے ساتھ تھا۔اور کلام خدا تھا۔اور یہی ابتدا میں خدا کے ساتھ تھا۔" اس کا یہی مطلب ہے کہ دنیا میں روحانی زندگی خدا تعالیٰ کے کلام کے نازل ہونے سے بندوں کو حاصل ہوتی ہے۔اور دنیا کی تبدیلی بھی خدا تعالیٰ کی وحی پر موقوف ہے نہ کہ مولویوں کی باتوں اور ڈھکونسلوں پر اور یہ تبدیلی وحی کے ذریعے اور خدا کے کلام کے ذریعے اس وقت دنیا میں ہوتی ہے جبکہ روحانی زمین اور آسمان گرنے لگتے ہیں۔تب ان کو قائم کرنے کے لئے ایک تبدیلی دنیا میں کی جاتی ہے اور خدا کا کلام نازل ہوتا ہے۔پس اسی اصل کے ماتحت قرآنی پیش گوئی کی رو سے حضرت مسیح موعود کے لئے ضروری تھا کہ ایک تبدیلی دنیا میں کرتے اور نئی روحانی زمین اور نیا روحانی آسمان بناتے اس کی طرف یہ کشف اشارہ کرتا ہے لیکن یہ مولوی حضرت صاحب کو اس کشف کی وجہ سے مشرک کہتے ہیں اور کہتے ہیں۔انہوں نے کہا میں خدا ہوں مگر یہ جاہل نہیں جانتے کہ اس کا مطلب کیا ہے۔حضرت مسیح موعود نے ہی تو آکر توحید قائم کی ہے ورنہ پہلے کہاں توحید تھی۔کیا ان مولویوں کے پاس توحید تھی جنہوں نے دجال کو خدائی صفات دے رکھی ہیں۔دجال کی نسبت یہ کہتے ہیں کہ وہ بارش برسائے گا۔سوکھی کھیتی کو ہرا کرے گا بیمار کو تندرست کر دے گا۔اور ہر امر اس کے اختیار میں ہو گا میں حیران ہوں کہ یہ مولوی کیسی الٹی عقل کے ہیں کہ خدائی صفات دجال کو دیتے ہیں۔اور منتظر ہیں کہ کب خدائی صفات والا دجال ان کے پاس آتا ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود کے کشف پر بھی اعتراض کرتے ہیں۔کیا کوئی نادان یہ کہہ سکتا ہے کہ زندہ کرنا اور مارنا اور بارش برسانا اور سوکھی کھیتی کو ہرا کرنا خدائی صفات نہیں۔اسی طرح کون کہہ سکتا ہے کہ دنوں کا چھوٹا اور بڑا کرنا بغیر سورج اور چاند اور ستاروں پر اختیار حاصل ہونے کے ممکن ہے۔دجال کا دنوں کو چھوٹا بڑا کرنا اسی صورت میں ہو سکتا ہے۔کہ خدائی صفات اس کو حاصل ہوں اور سورج اور چاند اور ستاروں کو اس کے قبضہ میں مانا جائے۔پھر یہ لوگ دجال کو خدائی صفات ہی نہیں دیتے۔بلکہ خدا سے بڑھ کر قادر اور صفتوں والا مانتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ تو کہتا ہے کہ میں اپنی سنت کو نہیں بدلتا اور یہ اس کی سنت ہے کہ دنیا میں کسی