خطبات محمود (جلد 8) — Page 377
377 اٹھا کر بادشاہ کے حضور جا سکتا ہے ہرگز نہیں پھر تم بد اخلاقی کی نجاست سے ملوث ہوتے ہوئے کس طرح رب الکائنات کے دربار میں حاضر ہو سکتے ہو۔پس تم اگر چاہتے ہو کہ اس رب الکائنات کے دربار میں باریابی حاصل کرو۔تو اس کے لئے تم کو اخلاق فاضلہ کا حاصل کرنا اور مختلف اوقات میں اپنے جوشوں کو دیانا اور اپنی زبان کو لگام میں رکھنا پڑے گا تمہیں اپنے نفسوں کو خدا کے لئے قربان کرنا پڑے گا مخلوق خدا کی ہمدردی میں ہر وقت کوشاں رہنا ہو گا۔اور تمہیں اپنے اندر ایک نمایاں تغیر پیدا کرنا ہو گا تب تم کافر کی قبر کی بجائے مومن کی قبر میں ڈالے جاؤ گے اور تمہارے لئے ایک کھڑ کی جنت کی طرف کھولی جائے گی تاکہ تم اس کی خوشبوؤں سے اپنے دل کو خوش کرو۔بعض نادان اخلاق فاضلہ کو ہی غرض و غایت ٹھرا لیتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ اخلاق فاضلہ ہی انسان کا مقصد اعظم ہے اور یہی کامیابی کی کلید ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ اخلاق فاضلہ ہرگز انسان کی پیدائش کی غرض و غایت نہیں ہیں بلکہ انسانی پیدائش کی غرض و غایت خدا کو حاصل کرنا اور اس کا قرب پانا ہے اور اخلاق تو صرف خدا تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہیں۔انہیں سنوارنے اور درست کرنے سے ہم خدا تک پہنچ سکتے ہیں۔اور یہ خدا کے حاصل کرنے میں ایک سیڑھی کا کام دے سکتے ہیں۔لیکن یہ ہمارے اصل مقصود نہیں۔اگر بفرض محال تھوڑی دیر کے لئے یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ اخلاق فاضلہ کا حاصل کرنا انسان کی پیدائش کی غرض و غایت ہے تو ہم کو یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہر ایک وہ شخص جو اخلاق فاضلہ اختیار کئے ہوئے ہو۔خدا کا مقرب اور اس کا محبوب ہے۔حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔عیسائی لوگ اپنے اندر ایک حد تک اخلاق فاضلہ رکھتے ہیں۔تو کیا اس سے ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ وہ خدا رسیدہ ہیں اور خدا کو ان سے محبت ہے۔اور وہ خدا سے محبت کرتے ہیں۔بسا اوقات ایک آدمی جو اپنے خلق کی وجہ سے نہایت شریف اور سنجیدہ معلوم ہوتا ہے۔خدا کی درگاہ سے راندہ ہوا ہوتا ہے۔اور اس قابل نہیں ہوتا کہ خدا تعالٰی اس کو زمرہ صلحا میں داخل کرے۔پس یہ تو درست ہے کہ اخلاق فاضلہ خدا تعالیٰ تک پہنچانے کا ایک ذریعہ ہیں جو انسانی زندگی کا اصل مدعا اور مقصد ہے لیکن یہ درست نہیں کہ وہ خود مستقل انسانی زندگی کی غرض و غایت ہیں۔اس کی مثال بعینہ اس طرح ہے جیسے انٹرینس۔ایف اے اور بی اے اور ایم اے تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے۔اور اسے پاس کرنے کے بعد طلباء بی اے اور ایم اے کے امتحانات پاس کر کے ڈگریاں حاصل کر لیتے ہیں۔اسی طرح اخلاق فاضلہ بمنزلہ انٹرفیس ہیں۔ان کے اختیار کرنے کے بعد خدا کا حصول اور قرب