خطبات محمود (جلد 8) — Page 376
376 لیکچروں کو کانوں سے سنا لیکن قلب میں جگہ نہ دی۔وعظوں کے سننے کے بعد اٹھ کر چلے گئے۔اور ایسے ہو گئے کہ گویا کچھ سنا ہی نہیں۔اور نہ ہی کبھی ان پر عمل کرنے کی کوشش کی میں کہتا ہوں کہ ایسے وعظوں اور لیکچروں کے سننے سے کیا فائدہ۔لیکچروں اور وعظوں کے سننے کی غرض تو ان نصائح پر عمل کرنا ہوتی ہے۔جو ان میں بتلائی جاتی ہیں۔اور جب تک انسان ان نصائح پر عمل کر کے اپنے اندر ایسا تغیر نہ پیدا کرلے کہ جس سے وہ دنیا ہی میں خدا تعالیٰ سے ملاقات حاصل کرلے اور اس کے نورانی چہرہ کو دیکھ لے۔اور اس سے مل جائے۔تب تک اس کے لئے مرجانے کی جگہ ہے۔تم میں سے بہت ہیں جو اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ ان کو صداقت مسیح موعود کے مسئلہ کے دلائل معلوم ہو گئے۔اور سمجھتے ہیں کہ مسیح موعود کی صداقت پر ہمارا انشراح صدر ہو گیا۔تم میں سے بعض یہی کافی سمجھ لیتے ہیں کہ وفات مسیح کا مسئلہ ہم نے ایسا حل کر لیا ہے کہ اور کوئی اس میں ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتا تم میں سے بعض اس پر پھولے نہیں سماتے کہ ہم کو قرآن کے متعلق علوم و - فنون پر کافی اطلاع ہے۔اور اس میں ہمارا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔تم میں سے بہت ہیں۔جو اس بات پر شاد ہیں کہ ہم بڑے اچھے مناظر ہیں۔ہمارا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔یا ہم بڑے اچھے مولوی ہیں ہم سے بڑھ کر کوئی نہیں۔لیکن میں کہتا ہوں۔سب سے بڑے مولوی ہونے سے تم خدا تک نہیں پہنچ سکے۔اور نہ ہی تم اس کی ملاقات حاصل کر سکتے ہو۔تمہاری کتابیں اور تمہارا علم تم کو خدا تک پہنچانے سے قاصر ہے۔ہاں اگر کوئی چیز تم کو خدا تک پہنچا سکتی ہے تو وہ ایک ہی چیز ہے اور وہ خدا تعالیٰ کو پانے کے لئے بے چینی گھبراہٹ اور بے اطمینانی ہے۔اگر تم نے اس بے اطمینانی اور گھبراہٹ کو اپنے اندر پیدا نہیں کیا۔جس کے ذریعہ تمہارا جوڑ خدا تعالٰی سے ہو جائے تو میں کہتا ہوں تم نے کچھ بھی نہ کیا۔تم اپنے اندر اس بے اطمینانی اور بے چینی کو ظاہر کرو اور اس کے پورا کرنے میں کوشاں رہو اور اس دن کے لئے تیاری کرو۔جبکہ تم رب العزت کے سامنے پیش کئے جاؤ گے۔پس قبل اس کے کہ تم اس کے سامنے پیش ہو۔اور تم سے تمہارے اعمال کی نسبت باز پرس کی جائے اپنے اخلاق درست کرو۔کیونکہ یہی سیڑھی خدا تک پہنچنے کی ہے۔میں اپنی واقفیت کی بنا پر کہتا ہوں کہ میں نے خدا کی صفات خوشنودی اور غضب کو دیکھا ہے۔اور معلوم کر لیا ہے کہ اخلاق کی درستی اور ان کا سنوارنا خدا تعالیٰ کے حصول کے لئے ایک لابدی امر ہے۔اور مجھ پر یہ ظاہر ہو گیا ہے کہ بد اخلاقی ایک نجاست ہے جو خدا تعالیٰ سے دور پھینک دیتی ہے کیا تم اپنے بدن پر نجاست کے ہوتے ہوئے بادشاہ کے سامنے جا سکتے ہو کیا کوئی تم میں سے نجاست کے ٹوکرے کو سرپر