خطبات محمود (جلد 8) — Page 363
363 ادا کر سکتے ہیں۔ ں میرے لڑکے ناصر احمد کی طرف ایک انگریز کا خط امریکہ سے آیا ہے وہ لکھتا ہے کہ میں نے تمہاری نماز پڑہنے کی تصویر نماز کی کتاب میں دیکھی ہے۔ مجھے تعجب ہے کہ تم تشہد میں کس طرح بیٹھ سکتے ہو۔ میں باوجود بہت کوشش کرنے کے نہیں بیٹھ سکتا اب یہ نہیں کہ اس انگریز میں اخلاص کم ہے۔ اس لئے اس سے بیٹھا نہیں جا سکتا۔ اس نے تو اپنے اخلاص کا یہاں تک ثبوت دیا کہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو چھوڑ کر اسلام قبول کیا۔ نہ اپنی حکومت کی پروا کی ملک اور نہ دوسرے تعلقات کی بات یہ ہے کہ چونکہ اسے تشہد میں بیٹھنے کی عادت نہیں اس لئے نہیں بیٹھ سکتا لیکن ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے گھنٹوں ہمارے ساتھ تشہد میں بیٹھے رہتے ہیں۔ کیا اس انگریز سے بچے اخلاص میں زیادہ ہوتے ہیں۔ نہیں بلکہ وہ عادی ہوتے ہیں اور وہ عادی نہیں۔ تو عادت انسان کو مشکل کاموں کے لئے تیار کر دیتی ہے۔ اسلام انسان کو قربانی کے لئے تیار کرتا ہے اور روزوں کی ایک غرض یہ بھی ہے۔ پھر رمضان کی بڑی فضیلت یہ ہے کہ اس میں خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے بہت لوگ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کہا ہے کہ رمضان میں دعائیں قبول کی جاتی ہیں لیکن ہماری دعائیں تو نہیں سنی جاتیں اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ وہ اپنی دعاؤں میں وہ اخلاص پیدا نہیں کرتے جو قبولیت دعا کے لئے شرط ہے اور جسمانی تغیر کے ساتھ وہ روحانی تغیر نہیں کرتے جو دعا کے لئے ضروری ہے۔ اس لئے ان کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ اور روح اور جسم کا ایسا تعلق ہے کہ ایک پر دوسرے کا اثر پڑتا ہے۔ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو زیور پہننے یا ریشمی کپڑا پہننے سے منع فرمایا ہے۔ کیونکہ یہ ایسی چیزیں ہیں جو جسم میں آسائش اور آرام طلبی کا مادہ پیدا کرتی ہیں۔ اور اس کا اثر روح پر پڑتا ہے۔ پھر روزوں کے ایام میں ایک بہت بڑا فائدہ یہ حاصل ہوتا ہے کہ جو لوگ رمضان سے پہلے تجد کے لئے نہیں اٹھ سکتے وہ بھی رمضان میں چونکہ سحری کھانے کے لئے اٹھتے ہیں۔ اس لئے انہیں تہجد پڑھنے کا موقع مل جاتا ہے۔ حتی کہ بچے بھی روزہ رکھنے کی خوشی میں اٹھ کر دو رکعتیں ہی تہجد کی پڑھ لیتے ہیں رمضان کے علاوہ وہی لوگ تہجد کے لئے اٹھتے ہیں جنہیں تہجد پڑہنے میں لذت اور سرور حاصل ہوتا ہے لیکن رمضان میں بڑے چھوٹے سب کو تہجد کا موقعہ مل جاتا ہے۔ پس رمضان ایک بہت بڑی نعمت ہے کیونکہ اس میں تہجد کا موقعہ اور دعاؤں کا خاص وقت عام لوگوں کو ملتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی رمضان کے مہینے میں بندوں کی