خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 357

357 قادیان کے بڑے بڑے لوگ ہمارے ساتھ ہیں۔خاندان نبوت کے ایک شخص نے ہمارے پاس وصیت کی ہے۔اسی طرح یہ کہ قادیان کے کئی لوگ ہمارے ساتھ ہیں۔تاکہ ہر ایک کو دوسرے پر شبہ ہو جائے۔انسان فورا" بد قلنی کی طرف جھک جاتا ہے اسے معلوم نہیں ہو تا کہ دشمن کا اس سے کیا مطلب ہے اور اس نے کون سا رویہ مد نظر رکھا ہے۔بھلا اگر قادیان کے علماء یا دوسرے لوگ بہائی ہیں تو کون سی چیز ہے جو ان کو اس کے اظہار سے روکتی ہے اور چھپانے پر مجبور کرتی ہے۔سارے لوگ منافق نہیں ہوتے۔اگر کچھ منافق ہوتے ہیں۔تو کچھ دیر بھی ہوتے ہیں۔ایسے سارے بزدل ہی نہیں ہوتے۔کیا بہائیت کوئی ایسی چیز ہے جو انسان کو پرلے درجے کا منافق بنا دیتی ہے۔اور چوروں ڈاکوؤں زہر کھلانے والوں کی طرح کا امن پسند بنا دیتی ہے۔ایسا لکھنے سے ان کی غرض یہ ہے کہ ہر ایک کو دوسرے پر شبہ ہو جائے۔اور محبت قطع ہو جائے۔اور تعلقات ٹوٹ جائیں۔حالانکہ یہ بات محض جھوٹ ہے۔غرض اس خط کے پڑھنے سے مجھے نہایت تعجب ہوا کہ حق کو چھوڑتے ہی انسان کس طرح جھوٹ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔حفاظت کا نام رکھتا ہے۔ڈنڈے والے ادھر سے ادھر لے جاتے تھے۔خود بلا کر موقع دیا جاتا ہے مگر کہا جاتا ہے کہ کوئی موقع نہیں دیا گیا مولوی فضل الدین صاحب نے آکر مجھ سے پوچھا کہ محفوظ الحق کہتا ہے ہمارے لئے تین دن پوچھنے کی اجازت کا اعلان ہوا ہے۔میں نے کہا کہ نہیں ایسا کوئی اعلان نہیں ہوا۔ہاں فیصلہ کی کمیٹی میں یہ ذکر ہوا تھا۔مگر فیصلہ یہ ہوا کہ سمجھنا ہو تو وہ خود درخواست دیں۔۔اب اگر وہ کچھ پوچھنا چاہتا ہے تو درخواست دینے پر کوئی آدمی مقرر کیا جا سکتا ہے۔لیکن دیکھو قادیان میں وہ خود پچھواتا ہے کہ کیا اعلان ہوا ہے مگر باہر جا کر یہ شائع کرتا ہے کہ ایسا کہا گیا مگر ہمیں اطلاع نہیں دی گئی۔الغرض شروع سے لے کر آخر تک منافقت کا پہلو ہی اختیار کیا گیا ہے۔پھر عقائد میں سے ایسے عقائد ظاہر کئے اور ایسی طرز سے ظاہر کئے گئے کہ جس سے دوسروں کو معلوم ہو کہ یہ تو ظلما" اور دھوکہ میں نکالدیئے گئے ہیں۔یہ تو بڑے اعلیٰ اخلاق والے ہیں۔دنیا میں امن و عافیت کے حامی ہیں۔اصل غرض اس تحریر کی یہ ہے کہ اب خفیہ کوشش کے لئے غیر احمدیوں یا غیر مبایعین میں کوئی میدان تلاش کیا جائے۔اور اس طرح اپنی تبلیغ کی جائے۔مگر جھوٹ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا جھوٹ کی بھی حد ہوتی ہے۔گذشتہ زمانوں میں باطنیوں اور قرامطہ کی قومیں گزری ہیں۔مگر آخر تباہ