خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 350

350 السلام کے زمانہ میں عبدالحکیم ان ہی مسائل پر مرتد نہیں ہوا۔کہ آپ تمام مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں۔اور اپنے درجہ کے بارے میں غلو کرتے ہیں۔وغیرہ وغیرہ پھر کیا عبدالحکیم کا ارتداد میری تعلیم کا نتیجہ تھا۔اسی طرح جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں پہلے ایمان لائے اور پھر مرند ہو گئے۔کیا وہ بھی محمودی خیالات کا نتیجہ تھے ؟ یا وہاں بھی آنحضرت صلعم نے کوئی غلو کیا تھا۔جس کے نتیجہ میں وہ جماعت مرتد ہو گئی تھی۔پھر حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانہ میں ان کے سامنے جو سینکڑوں مرتد ہوئے وہ کس غلو کا نتیجہ تھے۔کیا وہاں بھی میں موجود تھا اسی طرح موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بھی ارتداد ہوا وہ کن خیالات کا نتیجہ تھا۔قرآن کریم میں ان مرتدوں کا ذکر موجود ہے۔وہ خسف کئے گئے۔مٹائے گئے ذلیل کئے گئے۔وہ کن خیالات کا نتیجہ تھے۔کیا حضرت موسیٰ کے غلو کایا اس وقت بھی میں ہی موجود تھا جس کے نتیجہ میں ارتداد رونما ہوا تھا۔جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں مرتد ہوئے۔طالوت علیہ السلام کے زمانہ میں ارتداد ہوا۔عیسی علیہ السلام کے وقت میں بکثرت مرتد ہوئے۔پھر آنحضرت صلعم اور حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کے زمانوں میں لوگ مرتد ہوئے۔تو کیا وجہ ہے۔اگر آج دو تین مرتد ہو گئے۔تو جو وجہ وہاں تھی۔وہ اس جگہ چسپاں نہیں کی جاتی۔پھر کیا وہ لوگ موجود نہیں۔جنہوں نے میرا انکار کیا اور پیغامیوں سے ملے۔مگر پھر وہر یہ ہو گئے یہ کس تعلیم اور کن عقائد کا نتیجہ ہے۔مگرسچ ہے۔دوسرے کی آنکھ کا تنکا نظر آجاتا ہے۔مگر اپنی آنکھ کا شہتیر بھی نظر نہیں آتا۔ان پیغامیوں میں سے دہریہ ہوئے۔احمدیت سے مرتد ہوئے۔بد عمل اسلام کو چھوڑنے والے ہوئے مگر انہیں وہ یاد نہیں۔مسیح موعود کے زمانے میں مرتد ہوئے۔آنحضرت صلعم کے وقت میں مرتد ہوئے۔مگر وہ ان کی نظروں سے غائب ہیں۔لیکن ان دو تین کا ارتداد ان کی آنکھوں میں ایسا کھٹکا ہے۔گویا اس سے پہلے کبھی کوئی مرتد ہی نہیں ہوا۔اللہ تعالٰی نے ان کو کیسا جواب دیا ہے۔انہوں نے ہم پر یہ الزام لگایا کہ گویا ہمارے عقائد بہائیت کی طرف لے جاتے ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ نے مولوی محمد احسن صاحب کے لڑکے کو پہلے سے بہائی بنا کر ان کے منہ پر چھیڑ لگا دی۔کاش وہ سمجھیں کہ بہائیت تو ان کے گھر سے نکلی ہے۔اور وہ الٹا ہم پر الزام لگاتے ہیں۔اب میں خط کا مضمون لیتا ہوں۔مخط لکھنے والا لکھتا ہے۔”خیال تھا کہ جب جناب والا کا اختلاف جماعت قادیان سے ظاہر ہوا ہے۔تو کیوں جناب کو قادیان چھوڑنا پڑا۔مگر اب ہمیں ان کے