خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 337 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 337

337 58 (فرموده ۲۸ مارچ ۱۹۲۴ء) مومن وسیع الاخلاق مگر غیور ہوتا ہے شهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا سورۃ فاتحہ جہاں ہمیں اور باتوں کی طرف توجہ دلاتی ہے۔وہاں وہ ایک ایسی غیرت کی طرف بھی متوجہ کرتی ہے۔جو آگ کی طرح انسان کے دل میں جو شنزن ہو۔میں حیران ہوتا ہوں کہ مسلمان روزانہ سورہ فاتحہ پڑھتے ہیں۔مگر مطالب سے ناواقف ہیں بھلا سوچو تو سہی کہ ہم جو دن میں چالیس پچاس دفعہ روزانہ خدا تعالٰی کے سامنے کھڑے ہو کر دعا مانگتے ہیں۔غیر المغضوب عليهم ولا الضالین یعنی نہ تو یہ ہو کہ ہم ان لوگوں سے تعلق رکھیں۔اور ان سے ہماری شراکت ہو اور ان کے ساتھ ہمارا واسطہ ہو۔جنہوں نے خدا کے مامورو مرسل و انبیاء کی تکذیب کی اور ان کو طرح طرح کی تکلیفیں دیں اور قسم قسم کے دکھ پہنچا کر مغضوب علیہم بن گئے۔اور نہ ہی ہم ان لوگوں کے ساتھ ہوں۔جنہوں نے گو خدا تعالٰی کے مرسلوں اور ماموروں کو دکھ تو نہیں دیئے اور نہ ان سے برا سلوک کیا ہے۔مگر انہوں نے اس کے درجہ میں غلو کیا اور خدا کی محبت پر ان کی محبت کو فوقیت دی اور مقدم سمجھا اور جو تعلق خدا سے چاہئے وہ انہوں نے بندوں سے پیدا کیا۔یہ ایسی جامع دعا ہے۔کہ دنیا کی سب بدیاں اور سب گناہ اس میں آجاتے ہیں کیونکہ بدیاں یا تو وہ ہیں جن میں ماموروں کے احکام کو توڑا جاتا ہے اور ان کی مخالفت کی جاتی ہے اور یا وہ ہیں جن میں خدا کے حقیقی اور واقعی تعلق کو چھوڑ کر کسی بندے سے خواہ وہ مامور ہو۔مجدد ہو نبی ہو معمولی انسان ہو یا کافر ہو سے جھوٹا تعلق جس کا وہ حقدار نہیں پیدا کیا جاتا ہے اور اسکی محبت میں حد سے زیادہ غلو کیا جاتا ہے۔کون سی بدی ہے جو اس سے باہر رہ جاتی ہے ہر قسم کی اخلاقی بدیاں پہلی شق میں آجاتی ہیں۔