خطبات محمود (جلد 8) — Page 332
332 57 (فرموده ۲۱ مارچ ۱۹۲۴ء) سچ اور جھوٹ کے پر لکھنے کا معیار مشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا دنیا میں مختلف مذاہب پائے جاتے ہیں جو سارے کے سارے اس بات کے مدعی ہیں کہ ہم خدا کی طرف سے ہیں۔لیکن ایک سمجھ دار انسان کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے اتنے سامان مہیا کر دیئے گئے ہیں کہ جن کے ذریعہ وہ بچے اور جھوٹے میں فرق کر سکتا ہے۔اور اگر تعصب کی پٹی اس کی آنکھوں پر نہ بندھی ہو۔یا غفلت کی وجہ سے اس کی آنکھیں بند نہ ہوں۔یا اس کے دماغ میں فتور نہ ہو۔تو وہ دھوکہ نہیں کھا سکتا۔خدا تعالٰی کے مقرر کردہ نشانوں میں سے ایک نشان ایسا ہے۔جس سے ہر مذہب کی صداقت کا ہی پتہ نہیں لگ سکتا۔بلکہ اس کی زندگی بھی معلوم ہو سکتی ہے۔وہ نشان سورہ فاتحہ میں بیان کیا گیا ہے۔میں نے بارہا بتایا ہے کہ سورہ فاتحہ اپنے اندر اتنے کمالات اور اس قدر معارف رکھتی ہے۔جو کبھی ختم ہونے میں نہیں آتے۔خود مجھے بیسیوں مواقع ایسے پیش آئے ہیں کہ میں نے سورۃ فاتحہ پڑھی اور مجھے اس کے معنی سکھائے گئے۔اس کا باعث میری ایک رویا ہے جو میں نے ۶ یا ۱۷ یا ۱۸ سال کی عمر میں دیکھی تھی۔خواب میں مجھے ایک ایسی آواز سنائی دی جیسے پیتل یا تانبے کی چیز کو ٹھکورنے سے پیدا ہوتی ہے۔وہ آواز میرے دل سے نکلی اور میرے کانوں نے سنی۔پھر وہ بلند ہونی شروع ہوئی۔جوں جوں بلند ہوتی جاتی تھی۔ایک وسیع میدان بنتا جاتا تھا اس میدان میں سے ایک صورت نمودار ہوئی۔جو فرشتہ تھا وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ تمہیں قرآن کی تفسیر سکھاؤں میں نے کہا۔ہاں ضرور سکھاؤ۔اس نے مجھے سورہ فاتحہ کی تفسیر شروع کرائی۔جب وہ ایاک نعبد و ایاک نستعین تک پہنچا تو کہنے لگا۔سب مفسروں کی تفسیریں یہاں ختم ہو جاتی ہیں۔آگے کسی نے تفسیر نہیں کی۔میں خواب میں اس بات پر حیران نہیں ہو تا۔حالانکہ میں جانتا تھا۔کہ آگے بھی تفسیریں لکھی گئی ہیں۔میں سمجھا یہ کوئی خاص بات بتانے لگا ہے۔اس نے