خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 328

328 منجی ہے۔اور خلافت کو قائم کرنے والا ہے۔وہ آج خلافت کے متعلق ایسا فعل کرتا ہے۔جو نہایت شرمناک ہے۔وہ خلافت کو مٹا کر ہی دم نہیں لیتا۔بلکہ ایک ایسے ظالمانہ فعل کا مرتکب ہوتا ہے جو بہت ہی شرمناک اور ظالمانہ ہے۔ނ وہ نہ صرف خلیفہ کو معزول کرتا ہے۔بلکہ اس کے خاندان کے بیوی بچوں اور کل افراد کو ملک نکال دیتا ہے۔اور ملک کا داخلہ ان پر بند کر کے ان کو ان کے آبادئی وطن میں آنے سے محروم کر دیتا ہے۔یہ وہ سزا ہے۔جو چوروں اور ڈاکوؤں کو بھی نہیں دی جاتی۔چور قید کیا جاتا ہے۔مگر اس کی نسل کو قید نہیں کیا جاتا۔اس کی بیوی اور اس کے بچوں کو جلا وطن نہیں کیا جاتا کیونکہ ان کا قصور نہیں ہو تا۔مگر ترک خلیفہ کے ساتھ یہ سب کچھ کیا جاتا ہے۔اگر خلیفہ ترکی خلافت کے اہل نہ تھا۔اگر وہ اپنے افعال کی بنا پر قابل سزا تھا۔تو یہ کون سا اخلاق کا قانون ہے کہ اس کے اہل کو بھی جلا وطن کر دیا جائے۔اور ان کی جائدادیں زیر نگرانی کرلی جائیں۔یہ وہ فعل ہے جو کسی ظالم ترین بادشاہ سے کیا جاتا ہے۔پھر اس شرمناک طریق پر اس کو معزول کیا گیا ہے کہ جس سے افسوس ہوتا ہے۔یہ نہیں کیا گیا کہ معمولی طور پر خط لکھ دیا ہو کہ آپ چلے جائیں۔آپ معزول کر دیئے گئے ہیں۔بلکہ جب وہ تخت پر بیٹھا ہوتا ہے۔تب اس کو کہا جاتا ہے کہ ملک کی طرف سے حکم ہے کہ تخت سے اتر آؤ یہ کیسی ذلت کا نظارہ ہو گا جو وہاں پیش آیا۔ایک وقت تھا۔جب دنیا کو اس کی مدد کے لئے ابھارا جاتا تھا۔اس بات کا خیال کر کے اس وقت خلیفہ کے دل میں مسلمانوں کی ہیں کروڑ تعداد کی وفاداری کا کیا احساس ہو گا جب اسے کہا گیا ہو گا کہ تم تخت سے اتر آؤ اور دو گھنٹے کے اندر اندر ملک سے باہر نکل جاؤ۔تم اور تمہاری اولاد بیوی اور خاندان کے دوسرے لوگوں کو اس ملک میں گھنے کا حکم نہیں ہے اگر کوئی اور سلطنت ہوتی۔تو مجھے امید ہے کہ وہ ایسا بزدلانہ سلوک نہ کرتی۔مگر یہ کیوں ہوا یہ اس لئے ہوا کہ ترکوں کا خیال ہوا کہ خلافت کا مسئلہ سخت پیچیدہ ہو گیا ہے اور کہ اس سے جمہوریت کے خلاف طوفان اٹھایا جا سکتا ہے۔میرے نزدیک ترکوں کی یہ کارروائی مسلمانوں کے اس جوش کا نتیجہ ہے جو انہوں نے خلافت ترکی کے متعلق دکھایا۔ترکوں کو یہ خیال ہوا کہ اگر خلیفہ اور جمہوریت کا سوال اٹھا۔تو خلیفہ کے ساتھ لوگوں کو ہمدردی ہو گی۔اور ہماری حکومت ٹوٹ جائے گی۔سیاسی طور پر ان کا یہ خیال درست تھا اور ان کو اس خطرہ سے بچنے کے لئے خلافت کا نام و نشان مٹانا ضروری تھا۔مگر جو غیر شریفانہ سلوک خلیفہ کے ساتھ انہوں نے کیا ہے۔وہ نہایت ہی قابل افسوس اور قابل نفرت ہے۔امید ہے کہ مسلمانوں کی سمجھ میں اب وہ باتیں آجائیں