خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 312

312 54۔۔۔4 (فرموده ۲۹ فروری ۱۹۲۴ء) احمدیت کا نفوذ اکناف عالم میں پیاسی دنیا کی پیاس بجھاؤ مشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا گو ابھی میری طبیعت کچھ خراب ہی ہے۔اور اب بھی اس وقت کچھ بخار معلوم ہوتا ہے۔لیکن چونکہ میں اسی غرض کے لئے باہر سے روانہ ہوا کہ جمعہ قادیان میں پڑھوں۔اس لئے میں نے یہی مناسب سمجھا۔خود ہی خطبہ جمعہ پڑھوں۔میں نے اپنے دوستوں کو بارہا توجہ دلائی ہے کہ دنیا اس وقت حق کی پیاسی ہے۔اور اس کی مثال بالکل اس شخص کی سی ہے۔جو کہ کئی دنوں سے سخت پیاسا ہو۔اس کے حلق میں کانٹے پڑ گئے ہوں۔زباں خشک ہو رہی ہو۔اس بگی طاقت پیاس کے مارے ضائع ہو گئی ہو اور آخر وہ مرنے کی انتظار میں ہو کہ ایسی حالت میں اس کے سامنے تھوڑے سے فاصلہ پر نہایت شیریں اور ٹھنڈا پانی رکھا جائے۔پس جس طرح یہ شخص پانی کے لینے کے لئے کوشش کر رہا ہو۔اس کی زبان باہر نکل رہی ہو اور وہ سارے کا سارا التجا بن رہا ہو۔بعینہ اسی طرح آج دنیا روحانیت کے لئے پیاسی ہو رہی ہے۔کئی صدیاں گزر گئی ہیں کہ دنیا سے سچا مذہب مفقود ہو گیا۔حتی کہ اسلام بھی اس زمانہ میں پردوں کے نیچے چھپ گیا۔اور مسلمان پکار اٹھے تھے کہ اسلام کہاں ہے۔اسی طرح عیسائی چلا اٹھے تھے۔کہ وہ خدا جو مسیح کی شکل میں ظاہر ہوا تھا۔کہاں ہے۔ہندو پکار اٹھے۔وہ محبت کرنے والا خدا اب کیوں نہیں بولتا اور اپنے بندوں سے کیوں نہیں کلام کرتا۔جب ہر مذہب و ملت کے لوگوں کی ایسی حالت ہو گئی۔تو کئی صدیوں کے بعد خدا کی طرف سے آواز آئی اور قادیان سے ایک شخص اٹھا