خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 309

309 53 (فرموده ۸ فروری ۱۹۲۴ء) سورہ فاتحہ سے ایک سبق مشهد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا گلے کی تکلیف کی وجہ سے میں زیادہ بول نہیں سکتا۔اور اسی وجہ سے آج کل درس بھی نہیں دے سکتا۔کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ تھوڑا سا بھی بولنے کی وجہ سے گلے کی تکلیف اس قدر بڑھ جاتی ہے اور اس میں سے ایسا زہر جذب ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے بخار ہو جاتا ہے۔لیکن پھر بھی جمعہ کے موقعہ پر میں نے یہی مناسب سمجھا کہ چند لفظ بولوں۔میں نے اپنی جماعت کے دوستوں کو پچھلے دو خطبوں میں اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ سورۃ فاتحہ ہمیں دو سبق دیتی ہے۔ایک تو یہ کہ علم کی کتنی قسمیں ہیں۔اور دوسرا یہ کہ جہالت کی کتنی اقسام ہیں۔آج میں تیرے سبق کی طرف اپنے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں۔پہلے سبق تو انسان کی اپنی ذات کے متعلق ہیں کہ اس کو اپنی ذات کی اصلاح کرنی چاہئے۔وہ یہ ہے کہ دنیا میں کوئی انسان اپنے آپ کو علیحدہ وجود سمجھنے کا مستحق نہیں نیک مقابلہ کے لئے بیشک اللہ تعالیٰ نے یہ سکھایا ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو علیحدہ وجود قرار دے۔لیکن صرف اپنے فائدہ کے لئے کوئی انسان اپنے آپ کو علیحدہ وجود نہیں ٹھہرا سکتا۔حتی کہ اس کی تمام ترقیات دوسروں کے ساتھ وابستہ کر دی گئی ہیں۔یہ امر بتاتا ہے کہ منشا الہی یہی ہے کہ انسان اپنے آپ کو علیحدہ وجود قرار نہ دے۔مثلاً بیماری ہے۔اب کوئی بیماری ایسی نہیں۔جو ایک شخص کے ساتھ مخصوص ہو۔یہ کبھی نہیں ہوتا کہ ایک خاص بیماری میں ایک ہی شخص مبتلا ہو اور دوسرا اس میں کوئی نہ مبتلا ہو۔بلکہ ہر بیماری دوسرے پر بھی اثر ڈالتی ہے۔بعض متعدی بیماریاں تو مشہور بھی ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ مجلس میں ایک آدمی آیا سی لیتا ہے۔تو دوسروں کے منہ بھی کھل جاتے ہیں۔ایک افسردہ سے افسردہ مجلس ہو۔اس میں اگر کوئی ایسا شخص آوے۔جس کے دل میں بچے طور پر خوشی ہو تو وہ تمام غمزدہ لوگ خوش ہو جائیں گے۔اسی