خطبات محمود (جلد 8) — Page 302
302 ضلالت سے بالکل مصون ہو گیا۔کیونکہ ممکن ہے کہ ایک شخص کو عرفان اور علم ہو۔مگر وہ اس سے چھینا جائے یا کھویا جائے۔دنیا میں دیکھ لو۔ایک انسان دوسرے کو ملتا ہے۔اس حال میں کہ وہ دونوں ایک لمبا عرصہ جدا رہتے ہیں۔جب وہ ملتا ہے۔تو کہتا ہے آپ نے مجھے پہچانا۔وہ کہتا ہے۔نہیں۔تو وہ کہتا ہے کہ میں اور آپ اکٹھے کھیلتے اور پڑھتے رہے ہیں۔وہ کہتا ہے کہ ابھی تک میں نے آپ کو نہیں پہچانا۔کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ بہت کچھ تعارف سابقہ کی باتیں بتانے کے بعد بھی ایک شخص یہی کہتا ہے کہ افسوس میں نے آپ کو اب تک نہیں پہچانا۔اس سے ثابت ہوا کہ علم اور عرفان مٹائے بھی جاتے ہیں۔اور اس سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص مخلص تھا۔بڑا خادم تھا۔اس کو کیونکر ٹھوکر لگ گئی۔اس کو ٹھو کر اسی وقت لگتی ہے جب اس کا اخلاص کھویا جاتا ہے یا مٹ جاتا ہے۔کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ صحیح راستہ معلوم ہونے کے باوجود لوگ راستہ سے ہٹ بھی جایا کرتے ہیں۔محبت کو اختیار کر کے بھول بھی جایا کرتے ہیں۔ان کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے۔جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے۔و من نعمره ننگسه فی الخلق (یس : (19) جب عمر بڑھتی ہے تو قویٰ میں کمزوری آجاتی ہے۔پس جس طرح عمر میں بڑھاپا آنے سے علوم میں کمی آجاتی ہے اس طرح بعض انسانوں پر روحانی طور پر بھی بڑھایا آجاتا ہے۔ایسی حالت میں کوئی عارف یا عالم جو الحمد للہ کہنا جانتا ہو۔مگر پھر اس سے اس کی حقیقت کم ہو جائے۔وہ مغضوب علیہم میں شامل ہو سکتا ہے۔سورۃ فاتحہ میں یہ بات بتا کر اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ کسی کی ٹھوکر سے کوئی ٹھو کر نہ کھائے۔اور کسی کے گرنے سے کوئی نہ کرے۔جب تک کسی شخص کے متعلق خدا نہ کہدے کہ یہ شخص غلطی سے محفوظ ہو گیا۔اور اب یہ ٹھوکر نہیں کھا سکتا۔تب تک کسی شخص کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ شخص منزل مقصود پر پہنچ گیا اور ایسے لوگ جن کو غضب اور ضلالت سے محفوظ کر دیا جاتا ہے۔وہ خدا کے انبیاء ہوتے ہیں وہ بچے کی طرح خدا کی گود میں ہوتے ہیں۔خدا ان کے وجود کو اپنا وجود قرار دے دیتا ہے ان پر اپنی الوہیت کی چادر ڈال دیتا ہے۔ان میں خدا کی الوہیت تو نہیں آجاتی۔مگر وہ خدا کے مظہر ہو جاتے ہیں۔ان کی تعریف کچی تعریف اور ان کی حمد کچی حمد ہوتی ہے ان کے علاوہ کوئی شخص ایسا نہیں ہوتا۔جس کے متعلق کہا جائے کہ وہ ٹھو کر کیوں کھا گیا۔ایک شخص کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اگر کسی شخص نے جہنمی دیکھنا