خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 301

301 ہے۔اب دیکھو کہ انکسار اور کس حد تک انکسار تذلل اور کس حد تک تذلل ہے کہ انسان اپنی ہستی کی بھی نفی کر دیتا ہے۔اور اپنے اندر کسی بھی ہنر اور خوبی کو نہیں دیکھتا۔ایسا انسان اقرار کرتا ہے کہ مجھ میں حسن ذاتی نہیں۔نہ کسی غیر میں ذاتی حسن ہے۔دنیا میں دو چیزیں ہوتی ہیں۔علم یا حقیقت کسی چیز میں کوئی حقیقت ہو گی یا کسی شخص کو اس حقیقت کا علم ہو گا۔یہی دو باتیں ہیں کہ جو کسی چیز کو تعریف کا مستحق بناتی ہیں۔مثلا کو نین تعریف کی مستحق ہے۔کیونکہ اس میں طاقت ہے کہ بعض قسم کے بخاروں کو دور کر دیتی ہے۔لیکن ایک ڈاکٹر بھی قدر کئے جانے کا مستحق ہے۔کیونکہ اس کو معلوم ہے کہ کونین سے فلاں فلاں قسم کے بخاروں میں آرام ہوتا ہے۔یا لکڑی اور لوہا قدر کی چیزیں ہیں کہ ان سے عمارتیں تیار ہوتی ہیں۔جہاز بنائے جاتے ہیں۔مگر ایک بڑھئی۔ایک لوہار اور ایک معمار بھی قابل تعریف ہیں۔اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ لکڑی لو ہے۔اینٹ پتھر سے کس طرح کام لیا جاتا ہے۔پس جتنی حقیقتیں ہیں۔وہ دو قسم کی ہیں۔یا تو کسی میں کسی خوبی کا ہونا۔یا اس خوبی کا علم ہوتا۔خود انسان الحمد للہ کہہ کر تسلیم کرتا ہے۔کہ کسی میں کوئی خوبی نہیں۔مگر خدا میں ہیں۔گویا خدا تعالی ہی کی ذاتی خوبی ہے۔یہ کمال تذلل اور کمال انکسار ہے۔گویا بندہ اپنے وجود سے ہر ایک خوبی کا انکار کر دیتا ہے۔اور پھر تمام مخلوقات کو دیکھتا ہے کہ اس میں اپنے وہ خوبی نظر نہیں آتی۔جس کو وہ خدا کے مقابلہ میں قابل تعریف کہہ سکے۔اس طرح وہ تمام مخلوق پر نظر کرنے کے بعد کہتا ہے۔خدا کے سوا کسی میں کوئی خوبی نہیں۔اس عظیم الشان ابتداء کے بعد جو الحمد للہ سے ہوتی ہے کہتا ہے۔غیر المغضوب عليهم ولا الضالین که خدایا مجھ پر غضب نہ نازل کرنا اور ایسا نہ ہو کہ میں تیری رضا کی راہ سے بہک جاؤں۔لوگ کہتے ہیں۔اور سچ کہتے ہیں کہ علم و معرفت سے انسان ہلاکت سے بچتا ہے۔لوگ کہتے ہیں اور صحیح کہتے ہیں کہ جس جنگل میں شیر ہو وہاں کوئی نہیں جاتا۔یا جس جنگل میں ڈاکہ پڑتا ہو وہاں سے لوگ بغیر حفاظت کے نہیں گذرتے۔پھر باوجود عرفان حاصل ہونے کے سمجھ میں نہیں آتا کہ غير المغضوب عليهم ولا الضالین کیوں فرمایا۔عرفان کے بعد غضب اور ضلالت کا کیا خوف مگر کھتا ہوں۔یہ سچ ہے کہ عرفان کے بعد اس کا خوف نہیں ہوتا۔لیکن یہ بھی تو حقیقت ہے کہ عرفان کھویا بھی جاتا ہے۔پس اعلیٰ سے اعلیٰ عرفان اور علم کسی کو مطمئن نہیں کر سکتا کہ وہ غضب اور میں