خطبات محمود (جلد 8) — Page 297
297 ہی کیا کم تھا۔ اخرس فرما کر بتایا کہ وہ شیطانوں میں سے بھی ذلیل درجہ کا شیطان ہے، کیونکہ شیطان اپنی شیطانی باتیں تو پھیلاتا ہے۔ مگر وہ حق بیان کرنے کی بھی جرات نہیں کرتا۔ میرے نزدیک اس سے بڑھ کر اور کیا زجر ہو سکتی ہے۔ جو ایسے لوگوں کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔ جو حق کو بیان کرنے کی طاقت رکھتے ہوئے خاموش رہیں۔ مگر بہت ہیں جو حق کے کہنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ اور نہ حق کو بیان کرنے کی قابلیت پیدا کرنے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ میں احباب کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس سستی کو چھوڑیں خدا تعالی نے ہر ایک شخص کو زبان دی ہے اس سے وہ حق پھیلانے کا کام لے اور جو لکھنا جانتے ہیں۔ وہ زبان اور قلم سے کام لیں۔ جن کو قلم سے کام لینا نہیں آتا۔ وہ سیکھ سکتے ہیں۔ وہ کون سا کام ہے۔ جو کوشش کے بعد نہیں آ سکتا۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ جو قلم سے کام لے سکتے ہیں۔ وہ بھی نہیں لیتے۔ میں نے پہلے بھی اس طرف توجہ دلائی تھی اور اب بھی توجہ دلاتا ہوں۔ گو پہلی دفعہ کا تو کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ مگر اب کے امید رکھتا ہوں کہ میرا کہنا رائگاں نہ جائے گا اور ہماری جماعت کے اہل قلم اس طرف توجہ کریں گے۔ میں سلسلہ کے اخبارات با قاعدہ پڑھتا ہوں اور یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ اتنی بڑی جماعت کے جو اخبار اور رسالے نکلتے ہیں۔ ان میں مضامین لکھنے والے صرف دو تین ہوتے ہیں۔ باقی لوگوں نے مضامین لکھنا صرف ایڈیٹروں کا فرض سمجھ رکھا ہے۔ اور اپنے آپ کو اس سے آزاد سمجھتے ہیں۔ یہ نہایت ہی افسوسناک بات ہے میں اپنی جماعت کے علماء کو بھی توجہ دلاتا ہوں۔ اور ہماری جماعت کے علماء قادیان ہی میں نہیں باہر بھی ہیں۔ قادیان والے بھی تحریر میں مست ہیں۔ انہیں خصوصیت سے سستی کو دور کرنا چاہیئے۔ پھر علماء سے مراد ظاہری علوم رکھنے والے ہی نہیں۔ بلکہ وہ بھی ہیں جو دینی علماء ہیں۔ اور خشیتہ اللہ رکھتے ہیں۔ 6 میں ان سب کو مخاطب کر کے کہتا ہوں۔ وہ خاموشی کی عادت چھوڑیں اور قلم سے کام لینے کی مشق کریں۔ ہماری جماعت کے ایسے لوگ جو دین کی اشاعت کا جوش رکھتے ہیں۔ گوجرانوالہ گجرات، لاہور امرت سر سیالکوٹ راولپنڈی لدھیانہ پٹیالہ شملہ دہلی انبالہ غرض کہ ہر جگہ موجود ہیں۔ کوئی ضلع ایسا نہیں جہاں ہماری جماعت کے پڑھے لکھے احباب نہ ہوں عربی دان بھی ہیں اور اگر عربی دان نہ بھی ہوں تو فارسی اردو انگریزی زبانیں جانے والے ہیں ان زبانوں کے ذریعہ وہ خدمت دین کر سکتے ہیں۔ مگر ان کو اس طرف توجہ نہیں۔ اب یا تو اخباروں میں ایڈیٹر مضمون لکھتے ہیں۔ یا وہ چند طالب علم جو اپنا قلم صاف کر رہے ہیں اور مشق کر رہے ہوتے ہیں ۔ اور وہ لوگ جن کو