خطبات محمود (جلد 8) — Page 258
258 کی گھڑی ہوتی ہے۔ زندے اس پر روتے ہیں۔ اس لئے کہ ان کے لئے اس کی جدائی رنج اور غم کی بات ہے۔ مگر وہ خوش ہوتا ہے کہ اس کا خدا اس سے راضی ہو گیا اور اس کا انجام اچھا ہو گیا۔ ہوتا ہے۔ مکروہ ہوتا ہے کہ اس کا خدا اس سے راضی ہو گیا اور اس انجام کیونکہ وہ موت کے بعد دکھوں سے نجات پا گیا۔ اور خدا کے لطف و کرم کے دائمی سایہ کے نیچے آگیا۔ ایسے اشخاص جن کا انجام اس طرح ہو کہ خدا تعالیٰ ان سے راضی ہو وہ ابدالا باد تک راحت و چین میں رہتے ہیں۔ پس وہ موت کی گھڑی جو زندوں کے لئے مصیبت کی گھڑی ہوتی ہے ایسے مرنے والوں کے لئے نیک ساعت ہوتی ہے زندوں کو چونکہ اپنی جان سے واسطہ ہوتا ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کے لئے مرنے والے کی جدائی تکلیف ہے اس لئے ان کا خیال اس طرف نہیں جانتا کہ مرنے والے کے لئے موت کیسی ہے۔ بہر حال انسان کے لئے خوشی اور رنج ساتھ ساتھ ہیں۔ اس کی تازہ مثال ہی دیکھو۔ ابھی اترسوں کی بات ہے کہ مفتی صاحب امریکہ سے خدمت اسلام کر کے جب واپس آئے تو ان کی اس کامیاب واپسی پر ہمارے دل خوش تھے۔ اس خوشی میں ہر ایک سمجھتا تھا کہ خدا نے ہمارے لئے اپنے فضل سے ایک خوشی کا دروازہ کھولا ہے کہ ہمارا ایک دوست جو ہم سے بہت دور تھا وہ ہم میں واپس آگیا ہے۔ یہ ایک خوشی تھی جس میں ہماری ساری جماعت نے حصہ لیا اور جوں جوں باہر خبر پہنچے گی۔ حصہ لے گی۔ مگر جیسا کہ میں ۔ میں نے بتایا ہے کہ بحیثیت انسان ہمارے لئے خوشیاں بھی ہیں اور رنج بھی۔ اس لئے جہاں یہ بات ہمارے لئے خوشی کا موجب تھی اور ابھی تین دن بھی اس خوشی پر نہیں گزرے تھے کہ آج میں ایک غمناک بات کے متعلق خطبہ پڑھنے لگا ہوں۔ میں جو خطبہ پڑھنا چاہتا ہوں وہ ان آیات سے ظاہر ہے کہ وہ خود اس مضمون کو ظاہر کر رہی ہیں۔ میں نے بتایا ہے کہ نیک انجام انسان کے لئے خوشی کی گھڑی موت ہے۔ جو شخص نیکی اور تقوالے اور خدمت دین کی حالت میں اس جہان سے گزرتا ہے۔ اس کی جدائی اگر شاق ہے تو زندوں کے لئے ہے اس کے لئے تو راحت اور مسرت کی گھڑی ہے۔ کسی شاعر نے خوب کہا ہے انت الذي ولدتك ایک با کیا " والناس حولك يضحكون سرورا " فاحرص على عمل تكون انا بكوا " فی وقت موتک ضاحکا" مسرورا " کہ جب تو پیدا ہوا تھا تو روتا تھا۔ اور جو تیرے قرابت دار تھے وہ تیری پیدائش پر ہنتے تھے۔ جن کے ہاں بچہ پیدا ہوتا ہے وہ تو اس کی پیدائش کی خوشی میں ہنس رہے ہوتے ہیں۔ لیکن بچہ چونکہ تنگ رستہ سے ہو کر پیدا ہو کر پیدا ہوتا ہے اور اس کے جسم کی ہڈیاں ہل جاتی ہیں۔ شاعر کہتا ہے اپنے رونے پر