خطبات محمود (جلد 8) — Page 236
236 مگر وہ باتیں ان میں نہیں پائی جاتیں جو ان کی طرف منسوب کی جاتی ہیں۔ایسے آدمی کی گواہی عوام پر بہت اچھا اثر کرتی ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ مخالف کی شہادت ہے۔پس چاہئیے ایسے لوگ خواہ دشمن ہی رہیں لیکن وہ بہتوں کو ہمارا دوست بنانے کا باعث ہو جاتے ہیں اور دشمن ہونے کی وجہ سے ہماری صداقت کے زیادہ عمدہ گواہ ہوتے ہیں کیونکہ وہ باوجود دشمن ہونے کے پھر ہماری خوبی کا اقرار کرتے ہیں۔تو قادیان میں لوگوں کا لانا بہت مفید ہوتا ہے۔اور قادیان میں دوسرے لوگوں کو لانے کے لئے جلسہ کے دنوں سے زیادہ بہتر اور کوئی موقع نہیں ہے۔پس تمام دوست جس قدر بھی زیادہ سے زیادہ لوگ اپنے ساتھ لا سکیں وہ ضرور ان دنوں میں لائیں اور یہاں لانے کے لئے ابھی سے تحریک شروع کر دیں۔پھر یہاں کے کارکنوں کو خاص توجہ دلاتا ہوں کہ جب بیرونی دوست اپنے ساتھ دوسرے لوگوں کو بھی لائیں گے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ یہاں زیادہ آدمی آئیں اور کام بھی زیادہ ہو گا۔اس لئے وہ بھی ابھی سے تیاری شروع کر دیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے آفسیر بہت ہوشیار ہیں اور اس بات کو سمجھتے ہیں کہ سامان یکدم جمع نہیں ہوا کرتے۔اس لئے وہ بہت مدت پہلے سامان جمع کرنا شروع کر دیتے ہیں۔لیکن میرے نزدیک ابھی ان کے اندر یہ احساس نہیں پیدا ہوا کہ جس طرح سامان کا پہلے سے جمع کرنا ضروری ہے اسی طرح کام کرنے والے آدمیوں کا بھی پہلے جمع کرنا اور ان کو کام کے لئے تیار کرنا اور پہلے سے ہی کام سکھانا ضروری ہے۔دیکھو گورنمنٹ کتنے سپاہی تیار رکھتی ہے۔اور کس قدر اخراجات ان کے لئے برداشت کرتی ہے کیا ان پر فضول خرچ کرتی ہے۔نہیں بلکہ اس لئے کہ وہ وقت پر کام آسکیں کیونکہ کوئی کام کرنے والا اپنے فرض منصبی کو عمدگی سے ادا نہیں کر سکتا جب تک اس کو پہلے سے اس کام کے کرنے کی مشق نہ ہو۔ایک مثال ہے کہ ایک بیوقوف بادشاہ نے اپنی کثیر فوج کو یہ سمجھ کر کہ اتنی فوج رکھنے کی کیا ضرورت ہے بر طرف کر دیا۔اور اس کی بجائے قصابوں کے ایک ایک دو دو روپے مقرر کر دئے کہ یہ تو چھری چلانا جانتے ہیں جب ضرورت پڑے گی ان سے کام لے لیا جائے گا۔جب اس کی اس بے وقوفی کا پاس والی حکومت کو پتہ لگا تو اس نے چڑھائی کر دی۔ادھر بادشاہ نے تمام قصاب لڑنے کے لئے بھیج دئے مگر تھوڑی دیر کے بعد وہ سب دوڑے دوڑے آئے اور کہنے لگے حضور وہ تو نہ رگ دیکھتے ہیں نہ پٹھا۔بے تحاشا مارے جاتے ہیں یہ تین چار مل کر ایک آدم کو پکڑیں اور الٹا کر اس کے گلے پر چھری پھیریں۔مگر اتنی دیر میں وہ ان کے کئی آدمی ماردیں۔یہ ایک مثل ہے اور مثل ایسی ہی بنائی جاتی ہے جو انتہائی درجہ کو ظاہر کرے۔پس مثال ہمیشہ اپنے آخری نتیجہ کو ظاہر کیا کرتی ہے۔ایسا نہیں تو اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ایسے واقعات ضرور ہوتے رہتے ہیں اور ہر روز ہوتے ہیں۔پس انسان کو جس کام کو کرنے