خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 224

i 224 38 اقوام عالم کیلئے صلح کے شہزادے بنو (فرموده ۲۶ / اکتوبر ۱۹۲۳ء) تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔صوفیاء کہتے ہیں کہ انسان عالم صغیر ہے۔یعنی دنیا میں جو کچھ نظر آتا ہے اللہ تعالی نے ان تمام چیزوں کا نقشہ انسان کی ذات میں جاری کیا ہے۔دنیا میں جس قدر کاروبار ہو رہے ہیں وہ سب کسی نہ کسی رنگ میں انسان کی ذات میں نظر آرہے ہیں۔چاند سورج، ستارے اور دیگر کرے یہ عالم کبیر کہلاتے ہیں۔یعنی حجم کے لحاظ سے انسان سے بڑے ہیں۔مگر یہ تمام چیزیں چھوٹے پیمانے پر انسان میں پائی جاتی ہیں گویا انسان تمام کائنات کا فوٹو ہے۔اسی کے اندر سورج ہے جو اپنے فیض سے اور اپنی شعاعوں سے منور کرتا ہے۔اس میں چاند ہے جو سورج سے روشنی لیکر نور تقسیم کرتا ہے۔پھر انسان میں زمین کی قوت بھی پائی جاتی ہے۔اس زمین پر آرام کیا جاتا ہے۔اس سے وہ چیزیں نکلتی ہیں جو راحت اور زندگی کا موجب ہیں۔اس سے ایسے درخت پیدا ہوتے ہیں جو پھیلتے ہیں اور ان کے سائے میں آرام حاصل ہوتا ہے۔بعض ایسی بیلیں پیدا ہوتی ہیں جو لیٹی رہتی ہیں۔اس میں چشمے نکلتے ہیں جن سے دنیا سیراب ہوتی ہے۔پھر انسان میں علوم کے پہاڑ بھی بلند ہوتے ہیں۔غرض عالم کبیر کا کوئی نقشہ نہیں جو اس میں نہ ہو۔صوفیاء کی یہ بات بہت لطیف ہے اور جو ان کی غرض کو سمجھے وہ اس سے لذت حاصل کر سکتا ہے۔مگر میں کہتا ہوں کہ جس طرح انسان عالم صغیر ہے اسی طرح کسی جماعت کی درستی کرنے کے لئے جو انبیاء آتے ہیں وہ آئندہ امت کے لئے عالم صغیر ہوتے ہیں جو اس نبی میں ہوتا ہے وہ آئندہ امت ظاہر میں ہوتا ہے۔یہاں یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ جب نبی عالم صغیر ہوتا ہے تو گویا اس کا کم درجہ ہوا کیونکہ یہاں جب صغیر کا لفظ استعمال ہوتا ہے تو وہ حجم کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ورنہ حقیقت کے لحاظ سے یہ بات نہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آتا ہے لولاک لما خلقت الافلاک اور نی کریم کی شان کی تو کیا بات ہے۔آپ کے غلاموں میں سے بھی مسیح موعود کو انہی الفاظ میں مخاطب