خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 222

-222 پس اگر کوئی کامیابی کی امید ہو سکتی ہے تو اسی طرح کہ جماعت کے تمام افراد اپنے فرض کو سمجھیں۔میں اذان سے تھوڑی دیر ہی پہلے جب رقعے لے رہا تھا اور ان کو پڑھ رہا تھا تو پڑھنے کے بعد حتى على الفلاح کی آواز میرے کان میں آئی جس سے میرے دل میں خاص کیفیت پیدا ہوئی۔میں نے سمجھا موذن مسلمانوں کی طرف سے نمائندہ ہو کر کھڑا ہوتا ہے۔وہ اکیلا ہوتا ہے اور آواز دیتا ہے کہ سب کے سب فلاح اور ہدایت کی طرف آجاؤ۔اب کیا وہ اپنی طرف سے یہ کہہ رہا ہوتا ہے بہرگز نہیں کیونکہ بعض اوقات وہ چھوٹا بچہ ہوتا ہے۔کبھی نابینا ہوتا ہے کبھی جاہل ہوتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ وہ خود نہیں بول رہا ہو تا بلکہ وہ تمام عالم اسلام کی طرف سے بول رہا ہوتا ہے۔اس کے پیچھے تمام مسلمان دنیا کا زور ہوتا ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا وہ مسلمان جن کی طرف سے کھڑا ہو کر موزن دنیا کو بلاتا ہے۔اپنے قول اور اپنے عمل سے اس کی سچائی کو پورا کرتے ہیں۔اور اس کے بلانے میں اس کے مددگار بنتے ہیں۔جب پانچ وقت آدمی کھڑا ہوتا ہے اور ہمارے نام پر ہماری طرف سے کھڑا ہو کر عیسائیوں، ہندوؤں، سکھوں غرضیکہ ہر مذہب کے آدمیوں کو کہتا ہے کہ آؤ ہم راستہ دکھا ئیں تو کتنے مسلمان ہیں جو اس بات کو پورا کرنے اور اس کو سچا ثابت کرنے کے لئے کوشش کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنی طرف سے کہنے کی طاقت نہیں رکھتا بلکہ سب کی طرف سے کہتا ہے۔دیکھو کیا شادیوں اور بیاہوں کے موقع پر گھر والا چپ بیٹھا رہتا ہے کہ آپ ہی لوگ آجائیں گے اور خود بخود ہی دعوت کا سامان تیار ہو جائے گا۔نہیں بلکہ وہ اپنے دوستوں اپنے رشتہ داروں کو بلا کر کہتا ہے کہ آؤ میری مدد کرو اور یہ علامت ہوتی ہے اس بات کی کہ اس نے بچے طور پر دعوت کی ہے۔لیکن اگر کوئی لوگوں کو دعوت کے لئے بلا کر خاموش بیٹھا رہے اور کوئی سامان نہ کرے تو کیا لوگ سمجھیں گے کہ اس نے واقعی ہماری دعوت کی ہے یا اسے جھوٹا خیال کریں گے۔اسی طرح جب ایک شخص ہماری طرف سے دنیا کو بلاتا ہے کہ آؤ حق کی طرف اور ہدایت کو قبول کرو۔لیکن ہمارے دلوں میں اس آواز پر نہ کوئی جوش پیدا ہوتا ہے نہ کوئی تغیر پیدا ہوتا ہے تو کیا وہ لوگ یہ سمجھیں گے کہ یہ جھوٹے ہیں۔صرف رسم کے طور پر یہ کام کرتے ہیں جب اس روحانی مائدہ کے لئے کہ جس کی طرف لوگوں کو بلایا جاتا ہے ہم کچھ سامان نہیں کرتے اور کوئی تیاری نہیں کرتے تو لوگ ہمیں جھوٹا ہی سمجھیں گے۔لیکن اگر پانچ وقت کی دعوت کے ساتھ ہی ہمارے اندر ایک جوش پیدا ہو اور ہمارے حالات میں ایک تغیر واقع ہو اور ایک نئی روح پیدا ہو جائے اور ہماری طرف سے اذان کے ساتھ ہی سامان بھی شروع ہوں۔تو سوائے اشد ترین مخالف لوگوں کے باقی تمام ہماری طرف آجائیں گے کیونکہ کھانے میں ملے ہوئے زہر کو تو پہچانا مشکل ہوتا ہے۔مثلاً دودھ میں زہر ملا