خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 197

197 آئندہ کی قربانیوں کا اندازہ ہو سکتا ہے اور ہماری آج کی قربانیوں پر قیاس ہو سکتا ہے کہ ہم آئندہ کیسی قربانیاں کریں گے۔پس میں پھر کہتا ہوں کہ فتنہ ارتداد کو صحیح طور پر روکنے کے لئے ہزاروں آدمیوں کی ضرورت ہے۔اور ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے جن کے سامنے محض دین ہو۔بے شک اس سے زیادہ شاندار مثال قربانی کی اور اس سے زیادہ خوبصورت مثال قربانی کی اس سے پہلے جماعت میں نہیں پائی جاتی۔جو لوگ تبلیغ کے لئے گئے ان کا بہت بڑا حصہ ایسا تھا جو دین کے لئے ہر ایک قربانی کرنے کے لئے تیار تھا اور جو کچھ ان سے توقع کی جاتی تھی وہ انہوں نے پوری کی۔اسی طرح آئندہ جانے والوں میں بھی بہت سے ایسے دوست معلوم ہوتے ہیں جو بچے اخلاص اور جوش کے ساتھ قربانیاں کرنے کے لئے تیار ہیں۔چنانچہ ابھی ایک ڈاکٹر نے جو دس سال سے سرکاری ملازم تھا اس نے علاقہ ارتداد میں جانے کے لئے استعفی دے دیا کیونکہ اسے رخصت نہ مل سکی۔اس نے یہ گوارا نہ کیا کہ پیچھے رہے بلکہ یہ پسند کیا کہ اپنی ملازمت کو قربان کر دے۔حالانکہ لوگ پرانی ملازمتوں کو کسی طرح بھی نہیں چھوڑا کرتے کیونکہ پرانی ملازمت سے ان کے بہت سے حقوق قائم ہو جاتے ہیں۔دس پندرہ سال کی ملازمت کو تین ماہ کے کام کے لئے بالکل چھوڑ دینا یہ ضرور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کے اندر ایمان نہایت مضبوطی سے گڑ گیا ہے۔تو ایسے لوگ ہماری جماعت میں موجود ہیں مگر باوجود اس کے اگر ایک آدمی بھی ایسا نظر آئے کہ جو اپنے ایمان اور اخلاص میں کمزور ہو تو مجھے چین نہیں آسکتا۔دیکھو اگر کسی ماں کے سو بیٹے ہوں جن میں سے ایک بیمار ہو تو کیا وہ اس لئے چین سے سو سکتی ہیں کہ اس کے 99 بیٹے تندرست ہیں۔ہرگز نہیں بلکہ وہ بیمار بیٹے کے لئے ہر وقت بے چین رہے گی اور جب تک اسے شفا نہ ہو جائے گی آرام نہ کرے گی۔اسی طرح وہ لیڈر اور وہ امام جو کسی جماعت کی ترقی کا خواہاں اور ایک دور بین نگاہ رکھنے والا ہو۔وہ قطعا " اس بات پر راضی نہیں ہو سکتا کہ اس کی جماعت کا کوئی بھی فرد ایمان اور اخلاص سے خالی رہے۔اور جب تک جماعت کے تمام کے تمام افراد اس ایمان پر قائم نہ جائیں اور اس قربانی کے لئے تیار نہ ہو جائیں کہ جس کی ایک مومن جماعت کو ضرورت ہے تب تک وہ رئیس یا سردار نہیں کہلا سکتا۔اگر جماعت کے کسی فرد میں کسی قسم کی کوتاہی ہو تو وہ رات اور دن غم کھا کھا کر ان کے لئے دعائیں کرے گا تاکہ خدا تعالیٰ وہ حالت پیدا کرے کہ وہ دین کے لئے ہر قسم کی قربانیاں کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔پس میں دیکھتا ہوں کہ کئی تو ایسے لوگ ہیں جو پروا ہی نہیں کرتے کہ ہمیں کیا کہا جاتا ہے۔اس لئے وہ معمولی معمولی عذر پیش کر کے انکار کر دیتے ہیں اور کئی ایسے ہیں جن کو ایک طرف دنیاوی حالات اپنی طرف کھینچتے ہیں اور ایک طرف دین ملکی ضروریات اپنی طرف کھینچتی ہیں۔یہ لوگ اپنے