خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 182

182 وہ خدا تعالیٰ تو یہی چاہتا ہے کہ سب بندے اس کے بلانے کے لحاظ سے برابر ہوں۔کسی شخص کو یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ انبیاء کو اس لئے خاص طور پر مخاطب کرتا ہے کہ صرف وہی مقصود ہیں بلکہ اس لئے مخاطب کرتا ہے کہ وہ اس کے پیارے اور محبوب بن جاتے ہیں اور اس تک پہنچنے کے لئے سب سے آگے ہوتے ہیں۔پس جبکہ سارے کے سارے خدا تعالیٰ کے یکساں مخاطب ہیں تو اب سوال یہ ہے کہ ہم لوگوں کو دینی کام کی ذمہ داری کس طرح اٹھانی چاہئیے۔یہ سوال تو حل ہو گیا کہ تمام بندے اس کے مخاطب ہیں۔اس لئے ہم سب کام کے ذمہ دار ہیں۔ہاں وہ اپنے پیاروں کے ذریعہ سے لوگوں کو مخاطب کرتا ہے اور سب سے مخاطب نہ ہونے کی ایک حکمت ہے اور بندہ کسی اور وجہ سے سب سے نہیں بولتا۔خدا تعالیٰ کی تو سب سے نہ بولنے میں یہ حکمت ہے کہ اس کا بولنا ایک انعام ہے۔نہیں چاہتا کہ یہ انعام ہر شخص کو بغیر کوشش اور محنت کے دیا جائے اور بندہ کی ہر ایک کے ساتھ نہ بولنے کی یہ وجہ ہے کہ اس کی طاقت محدود ہے۔مثلاً میں ہوں۔میں ہر ایک کے ساتھ نہ بول سکتا ہوں نہ خط و کتابت کر سکتا ہوں اس لئے میں اگر ایک امیریا سیکرٹری یا پریذیڈنٹ کو حکم دوں کہ دوسروں کو یہ کہو کہ یہ کام کرنا ہے تو کیا دوسرے لوگ اس کام کے کرنے میں اس لئے سستی اختیار کر سکتے ہیں کہ میں نے ان کو براہ راست حکم نہیں دیا۔میرے حکم کے جیسے امیر مخاطب تھے اسی طرح تمام لوگ مخاطب ہونگے حکم سب کے لئے یکساں ہوگا اور کوئی خاص آدمی اس حکم کا مقصود نہیں ہو گا۔لیکن سب کو چونکہ براہ راست حکم نہیں دیا جا سکتا اس لئے امیریا سیکرٹری وغیرہ کے ذریعہ سے دیا جائے گا۔پس جبکہ قرآن کریم تمام کے لئے ہے اور تمام مسلمان اس کے مخاطب ہیں تو تمام کی ذمہ داریاں یکساں ہونگی۔جس طرح وہ احکام زید کے لئے فرض ہیں۔اسی طرح بکر کے لئے۔جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اس کے احکام فرض ہیں اسی طرح ہمارے لئے فرض ہیں۔یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ فلاں شخص اس پر عمل کرنے کا ہماری نسبت زیادہ حق رکھتا ہے۔اس کے احکام پر عمل کرنا سب کا یکساں فرض ہے اور سب کا حق ہے۔ابوبکر کے اوپر کوئی زیادہ حق نہیں تھا کہ ان احکام پر عمل کریں اور لوگوں سے عمل کرائیں۔جس طرح ان پر حق تھا کہ وہ اسلام کی حفاظت کریں اور لوگوں سے شریعت پر عمل کرائیں۔اسی طرح ابو عبیدہ اور دیگر مسلمانوں کا حق تھا۔عمر پر جیسے اسلام کی حمائت اور حفاظت فرض تھی۔بعینہ اسی طرح ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان کا بھی فرض تھا۔فرق صرف یہ تھا کہ عمر کے پاس طاقت زیادہ تھی۔اور اس میں کوئی شک نہیں کہ طاقتور زیادہ بوجھ اٹھائے گا اور کمزور کم لیکن حکم دونوں کے لئے یکساں تھا۔جس قدر طاقت اس کے اندر ہے اس حد تک اس کے لئے احکام ہیں۔