خطبات محمود (جلد 8) — Page 174
174 شان سے بالا سمجھتے ہیں۔احمدیوں کو وہاں تبلیغ سے روکا جاتا ہے۔اپنے گھر پر جلسہ کرنے سے روکا جاتا ہے۔رسالوں کی اشاعت سے روکا جاتا ہے۔لیکن آریوں اور مسیحیوں کو نہیں روکا جاتا۔انگریز افسروں کو توجہ دلائی جاتی ہے مگر وہ یہ کہ کر خاموش ہو جاتے ہیں کہ آپ کو خاموشی سے وقت گزار دینا چاہئیے۔مگر ہم تب جانتے اگر مسیحیوں کے راستہ میں روک ڈالی جاتی اور حکام ایسا ہی جواب دیتے۔پس ہم نے گورنمنٹ سے کونسا فائدہ اور نفع اٹھایا ہے۔اگر کوئی شخص ذرا بھی عقل سے کام لے گا تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ ہم نے نہ صرف کوئی فائدہ ہی نہیں اٹھایا بلکہ نقصان اٹھایا ہے۔ایک طرف لوگوں سے دکھ اور مصیبتیں اٹھائیں۔کیونکہ جب فسادی فساد کر رہے تھے تو احمدیوں کو الگ رہنے کی وجہ سے انہوں نے دکھ دئے۔لوٹا اور مارا۔دوسری طرف جب گورنمنٹ اٹھی تو اس نے احمدیوں پر جرمانے کئے۔گویا ہم دونوں ہاتھوں سے لوٹے گئے اور دکھ دئے گئے۔دائیں سے بھی اور بائیں سے بھی۔اگر عدل اور انصاف کوئی چیز ہے تو ہم پر خوشامد کا الزام لگانے والے دیکھیں کہ ہم نے گورنمنٹ سے کیا فائدہ اٹھایا ہے۔ہم نے نقصان تو اٹھائے ہیں مگر کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔اگر کوئی کہے کہ تم پھر اس کے باوجود کیوں کہتے ہو کہ گورنمنٹ محسن ہے تو اس کا یہ جواب ہے کہ اس سے ہمارا یہ مطلب نہیں کہ گورنمنٹ کا ہم پر کوئی ایسا احسان ہے جو دوسری جماعتوں سے ممتاز ہے بلکہ یہ مطلب ہوتا ہے کہ اس گورنمنٹ کے ماتحت ہمارے ساتھ وہ سلوک ہوتا ہے جو دوسری گور نمنٹوں سے اچھا اور ممتاز ہے۔اور اس کے قانون ایسے ہیں کہ ان کے ماتحت ہم بڑھنے اور پھیلنے کا میدان کشادہ پاتے ہیں۔مگر یہ فائدہ ایسا ہے کہ مسٹر گاندھی لالہ لاجپت رائے مسٹر محمد علی وغیرہ کو بھی جو گورنمنٹ کے خطرناک دشمن ہیں ویسا ہی پہنچ رہا ہے جیسا ہم کو پہنچتا ہے۔ہم کو ان سے زیادہ نہیں۔بلکہ اگر وہ لوگ مقابلہ پر آجائیں تو ہمیں نقصان ہی اٹھانا پڑتا ہے۔فائدہ نہیں ہوتا۔پس یہ کہنا کہ ہم گورنمنٹ کی خوشامد کرتے ہیں بالکل جھوٹ ہے۔اگر لوگ ذرا بھی انصاف سے کام لیتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ ہم گورنمنٹ کی خوشامد کی وجہ سے نہیں بلکہ محض اپنے بھائیوں کی ہمدردی کی وجہ سے اخلاص کے ساتھ انہیں مشورہ دیتے رہے ہیں نہ کہ اس لئے کہ گورنمنٹ ہمیں کچھ دیتی ہے گورنمنٹ کے بعض متعصب افسروں کا جو اپنے افسر ہونے سے زیادہ اپنے عیسائی ہونے کا خیال رکھتے ہیں تو یہ حال ہے کہ یہاں سے رفاہ عام کے ایک کام کے لئے درخواست کی گئی اور وہ کام ایسا ہے جس کے لئے پادریوں کو لاکھوں روپیہ گورنمنٹ دیتی ہے تو اس وقت کے کمشنر نے اس پر لکھا کہ اس جماعت کو مدد دینے کی کیا ضرورت ہے۔یہ بہت مال دار قوم ہے۔گویا وہ لوگ جو کروڑ پتی ہیں اور لاکھوں روپیہ پادریوں کو عیسائیت کی تبلیغ کے لئے دیتے