خطبات محمود (جلد 8) — Page 166
166 لوگوں کو خدا تعالیٰ کے احکام سناتے ہیں۔اور جس دن لوگ اس نبی پر ایمان لاتے ہیں اسی دن وہ کلام براہ راست ان کا ہوتا ہے۔مثلاً جب کوئی شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہے اسی دن اس پر قرآن کریم نازل ہوتا ہے ورنہ اگر صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے قرآن نازل ہوا تو ہم پر اس کی پابندی کیوں؟ ہر شخص جو ایمان لاتا ہے اس پر قرآن نازل ہوتا ہے اسی لئے قرآن کریم میں قرآن اور دوسری کتابوں کے متعلق آتا ہے کہ تم پر نازل کی گئیں۔حالانکہ بظاہر تو وہ نبی پر نازل ہوئیں اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام بندے جو مخاطب ہوتے ہیں ان سب پر نازل ہوتی ہیں۔اس وقت چونکہ صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا سے کلام کرنے کے مستحق تھے اور لوگ نہ تھے۔اس لئے آپ ہی پر نازل ہوا۔ورنہ جب کوئی ایمان لاتا ہے اسی پر نازل ہوتا ہے۔اس لئے صوفیا نے کہا ہے کہ نماز میں اس وقت تک لذت نہیں آسکتی جب تک وہ آیتیں جو انسان پڑھ رہا ہو ان کے متعلق یہ نہ سمجھے کہ مجھے پر نازل ہو رہی ہیں تو ہر بندہ اور خدا کا تعلق براہ راست ہے۔اگر خدا تعالیٰ اپنا کلام توسط سے پہنچاتا ہے تو اس لئے کہ جسے واسطہ بنایا جاتا ہے اس کے سوا باقی لوگ خدا سے دور ہوتے ہیں۔اور جب قریب آجاتے ہیں تو وہ کلام ان کے لئے بھی ایسا ہی ہو جاتا ہے جیسا اس کے لئے جس پر نازل ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کی کوئی آیت ایسی نہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے زیادہ ہے اور ہمارے لئے نہیں۔سب کے لئے ایک ہی جیسا قرآن ہے اس لئے وہ ہمارے لئے کلام ہے۔اور گویا ہم پر نازل ہوا ہے۔پس خدا تعالی سے بندہ کا براہ راست تعلق ہوتا ہے حتی کہ رسول کا بھی اس میں کوئی دخل نہیں ہوتا۔بعض صوفیا نے لکھا ہے کہ بندہ اور خدا کا ایسا تعلق ہوتا ہے کہ پیر نہیں جانتا اس کے مرید کا خدا سے کیا تعلق ہے اور مرید کو علم نہیں ہوتا کہ اس کے پیر کا خدا سے کتنا تعلق ہے۔کیونکہ بندہ اور خدا کا تعلق بلا واسطہ ہوتا ہے اگر بالواسطہ ہوتا تو پیر کو بتایا جاتا کہ تمہارے فلاں مرید کا خدا سے تعلق ہے اور فلاں کا یہ۔مگر ہر انسان کا تعلق خدا سے براہ راست ہوتا ہے اور جب براہ راست ہوتا ہے تو دین کی سب باتیں ہر ایک بندہ سے تعلق رکھتی ہیں اور ان میں بھی کوئی واسطہ نہیں۔مثلاً یہ نہیں کہ نماز اس لئے پڑھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے بلکہ اس لئے پڑھے کہ خدا تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کہا ہے اور ہم کو بھی کہا ہے۔روزہ اس لئے نہ رکھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے بلکہ اس لئے رکھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خدا نے کہا ہے اور ہم کو بھی خدا نے کہا ہے۔پس جب رسول بھی وسیلہ نہیں ہوتے تو اور کوئی وجود تو ہو ہی نہیں سکتا۔رسولوں سے اتر کر خلفاء اور مجددین ہوتے ہیں۔یہ کس طرح وسیلہ ہو سکتے ہیں۔پس در حقیقت ہر مومن خداتعالی سے