خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 164

164 ا ہے۔مگر چونکہ انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس دین کو کس طرح استعمال کریں اور ان کی کیا ذمہ داریاں ہیں جن کو بجا لا کر اللہ تعالیٰ کے فضل کے وارث نہیں۔اس لئے ناکام رہتے ہیں۔آج میں اس مضمون کے ایک پہلو کو بیان کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ مومن کو کس طرح دینی کام کرنا چاہئیے۔میرے نزدیک بہت سے لوگ اس لئے روحانی ترقی اور قرب الہی سے محروم رہ جاتے ہیں کہ وہ نہیں جانتے کس طرح کام کرنا چاہئیے اور بہت سے لوگ اس شبہ میں پڑے رہتے ہیں کہ یہ ہمارا کام نہیں فلاں کا ہے۔یا یہ کہ ہم کو کسی نے یہ کام کرنے کے لئے نہیں کہا اس لئے ہم کیوں کریں۔اس طرح وہ دینی خدمت سے محروم رہ جاتے ہیں۔حالانکہ اگر انسان اپنے اور خدا تعالیٰ کے تعلق پر غور کرے تو اسے یہ عجیب بات معلوم ہوگی کہ خدا تعالیٰ نے اپنے اور بندے کے درمیان کوئی واسطہ مقرر نہیں کیا۔اور یہ ایک بہت بڑا فرق اسلام اور دیگر مذاہب میں ہے اور مذاہب نے خدا اور بندے کے درمیان مختلف واسطے رکھے ہیں۔لیکن اسلام براہ راست خدا سے تعلق بتاتا ہے اور کسی کو واسطہ نہیں ٹھہراتا۔مثلاً عیسائیت بتلاتی ہے کہ خدا اور بندہ کے درمیان مسیح کا وجود کھڑا ہے۔کوئی شخص خدا تک پہنچ نہیں سکتا جب تک مسیح کو وسیلہ نہ بنائے۔زرتشتی لوگ روحانی طاقتوں کو وسیلہ قرار دیتے ہیں۔آگ، سمندر، سورج اور اپنے پرانے بزرگوں کے متعلق کہتے ہیں کہ کوئی انسان خدا تک پہنچ نہیں سکتا جب تک اس وسیلہ کے ذریعہ تعلق نہ پیدا کرے۔ہندو بھی یہی کہتے ہیں انہوں نے بھی مختلف ویلے بنائے ہوئے ہیں۔کسی نے شوجی کو وسیلہ قرار دیا ہے، کسی نے برہما کو کسی نے رام چندر جی کو کسی نے کرشن جی کو اور جو ہندوؤں میں سے ہی الگ مذہب بن گئے ہیں۔مثلاً بدھ اور جینی وغیرہ انہوں نے بھی اپنے الگ الگ و سائل بنا رکھے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کے بغیر کوئی انسان خدا تک نہیں پہنچ سکتا پس غیر مذاہب کے لوگ ان وسیلوں کی عبادتیں کرتے ہیں۔نہ کی خدا کی۔اسلام نے پہلی ضرب ان پر یہ لگائی ہے کہ خدا اور بندہ میں کوئی وسیلہ نہیں۔خدا اور بندہ میں وہی وسیلہ ہے جو خدا کو بندہ سے شفقت اور محبت ہے اور جو رحمانیت اور رحیمیت ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کی ہر سورۃ بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع ہوتی ہے کہ میں اس خدا کا نام لیتا ہوں جو رحمان اور رحیم ہے۔اور جس کی رحمانیت اور رحیمیت کے ہوتے ہوئے اور کسی کی ضرورت نہیں۔دیکھو کسی کے پاس جانے کے لئے دو باتوں کی ضرورت ہوتی ہے اول یہ کہ جانے کے لئے سامان میسر ہو اور دوسرے یہ کہ جس کے پاس جانا ہو۔وہ اپنا دروازہ کھول دے اور ملاقات کر لے۔مثلاً ایک شخص جو اپنے کسی دوست کے پاس جانا چاہتا ہے اس کے لئے دو ہی رد کیں ہو سکتی ہیں اور وہ یہ کہ دوست کہیں دور رہتا ہو جہاں ریل نہ جاتی ہو اور جانے کا سامان میسر نہ ہو۔دوسرے یہ کہ وہاں چلا تو جائے مگر وہ دوست اپنے گھر میں اسے گھنے نہ دے۔ان دو روکوں