خطبات محمود (جلد 8) — Page 139
139 وہ جسے باہر عطر لگایا ہوا تھا اس کے اندر سے نجاست نکل رہی ہے۔جیسے کسی شخص نے بہت اعلیٰ درجہ کا لباس سلا کر اس لئے رکھا ہو کہ عید پر یا شادی کے موقع پر پہنوں گا۔لیکن جب وہ پہننے کے لئے نکالے تو معلوم ہو کہ چوہے نے کتر ڈالا ہے۔بعینہ یہ کیفیت ہو جاتی ہے جب معلوم ہوتا ہے کہ ایک مخلص دین کے لئے قربانی کرنے والا اسلام کے لئے اپنی جان کو ہلکان کرنے والا جو ہمارے لئے راحت اور مسرت کا موجب ہوتا ہے ذرا سی بات میں بھول جاتا ہے کہ میں مسلم ہوں اور مجھے خدا تعالی کے احکام کی فرمانبرداری کرنی چاہئیے نہ کہ اس اور اس حکم میں پڑنا چاہیئے۔اس اور اس حکم میں تو ہندو، عیسائی، بدھ اور سکھ وغیرہ بھی خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کرتے ہیں۔پھر مجھ میں اور ان میں فرق ہی کیا رہا۔فرق تو یہی ہے کہ مسلم سب احکام میں فرمانبرداری کرتا ہے اور وہ اس اور اس میں پڑے ہوتے ہیں۔ایک مسلم اور ہندو میں ایک مسلم اور عیسائی میں ایک مسلم اور یہودی میں کیا فرق ہے۔یہی کہ وہ کہتے ہیں۔ہم یہ مانیں گے وہ نہیں مانیں گے۔مگر مسلم یہ اور وہ سب کو چھوڑ کر یہ کہتا ہے کہ میں سب کچھ مانوں گا اگر یہی فرق مسلم اور غیر مسلم میں ہے۔اگر یہی معیار مسلمان اور غیر مسلمان میں ہے تو پھر اگر کوئی شخص ہزار بات مانتا ہے مگر ایک نہیں مانتا تو اپنے ہاتھ سے اپنے اسلام پر چھری پھیرتا ہے کیونکہ اسلام یہ نہیں کہتا کہ ١٠٠ میں سے ۹۹ احکام مانو۔اسلام یہ نہیں کہتا کہ ہزار میں سے ۹۹۹ مانو۔اسلام یہ نہیں کہتا کہ لاکھ میں سے 44999 احکام مانو اور اسلام یہ ؟ یہ بھی نہیں کہتا کہ کروڑ میں سے ۹۹۹۹۹۹۹ مانو بلکہ اسلام تو یہ کہتا ہے کہ ہر ایک بات مانو اور اسلام اسی کا نام ہے کہ مسلمان کہلانے والا ہر ایک بات کو مانے۔سوائے اس کے جو نفس کی کمزوری کی وجہ سے رہ جائے یعنی اگر کوئی چلتا چلتا گر جاتا اور اس طرح رہ جاتا ہے تو اور بات ہے لیکن اگر کوئی کہتا ہے کہ میرا نفس فلاں بات ماننے کے لئے تیار نہیں تو وہ اسلام سے نکل جاتا ہے نفس کی کمزوری کی وجہ سے کسی حکم کی تعمیل نہ کر سکنے والا مسلم کہلا سکتا ہے مگر ظاہری اطاعت سے انکار کرنے والا اسلام سے باہر نکل جاتا ہے۔اس لئے کہا گیا ہے کہ نماز کا تارک کافر نہیں ہوتا۔مگر نماز کا منکر کافر ہو جاتا ہے۔میں نے آپ لوگوں کو بارہا توجہ دلائی ہے کہ اپنے نفسوں کی اصلاح کرو اور اگلی نسلوں کے لئے اپنا اعلیٰ نمونہ اور اسوہ حسنہ پیش کرو اور ایسا نمونہ نہ چھوڑو کہ جو ان کے لئے ٹھوکر کا باعث ہو۔کسی شاعر نے کہا ہے خشت اول چونهد تا ثریا میرود معمار سج دیوار کج اگر پہلی اینٹ ٹیڑھی رکھی جائے تو دیوار اوپر تک ٹیڑھی جائے گی۔اگر آج تم پورا اور کامل نمونہ فرمانبرداری کا نہیں پیش کرو گے تو آئندہ آنے والوں کی حالت اور بھی خراب ہوگی اور اس طرح وہ