خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 119

119 ملک کے لوگ ان کے پیچھے چل پڑے۔اسی طرح اگر یہ کہا جاتا کہ میں تیری تبلیغ کو ادنی اقوام میں پھیلاؤں گا تو لوگ کہتے چونکہ لوگوں میں تعلیم پھیلتی جاتی ہے اور لوگ جن کو حقیر سمجھتے تھے۔ان کو اپنی ذلت کا احساس ہو گیا ہے۔اس لئے ان کا اپنی ترقی کے لئے کسی کو راہ نما بنا لینا ضروری تھا اور انہوں نے بنا لیا۔وہ پہلے سمجھتے تھے کہ ہمارا یہی حق ہے کہ ہم دوسروں کی خدمت کریں اور خدا نے ہمیں اسی لئے پیدا کیا ہے لیکن اب وہ زمانہ آگیا ہے کہ ان کی بھی آنکھیں کھل گئی ہیں اور ان کے پر دے بھی دور ہو گئے ہیں اب انہوں نے دیکھ لیا ہے کہ غلامی اسی کے لئے ہے جو خود غلام بنا رہنا چاہتا ہے اور آزادی اس سے دور نہیں جو آزادی کے لئے ہاتھ بڑھاتا ہے۔ایسے وقت میں اگر کوئی کھڑا ہو جائے اور ان لوگوں کو کہے کہ میں تمہیں آزاد کرانے آیا ہوں تو ان کا اس کے ساتھ مل جانا کوئی تعجب کی بات نہیں۔تو ملک بھی ایسے پائے جاتے ہیں جن کے لوگوں پر ظلم ہو رہے ہیں یا وہ سمجھتے ہیں ظلم کیا جا رہا ہے اور وہ آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔پھر ایسی قومیں بھی ہیں جو گری ہوئی ہیں یا دوسرے لوگ انہیں گرا رہے ہیں۔وہ منتظر ہیں کہ کوئی ان کے لئے آئے اور انہیں آزاد کرائے۔پس اگر یہ ہو تا کہ فلاں ملک یا فلاں قوم مان لے گی تو کہتے اس نے دیکھا اس ملک یا قوم کی ایسی حالت ہے کہ وہ کسی راہ نما کی منتظر ہے۔اس لئے کہہ دیا کہ ایسا ہو گا۔مگر یہ نہیں کہا گیا کہ ہندوستان میں تیری تبلیغ کو پہنچاؤں گا۔نہ یہ کہا گیا کہ ادنی اقوام میں تیری تبلیغ کو پہنچاؤں گا۔بلکہ یہ کہا گیا کہ ”میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا یعنی تیری تبلیغ مسلمانوں میں جائے گی اور ان پر اثر کرتی ہوئی آگے نکل جائے گی۔پھر عیسائیوں میں جائے گی اور ان پر اثر کرتی ہوئی آگے نکل جائے گی۔پھر یہودیوں میں جائے گی اور ان پر اثر کرتی ہوئی آگے نکل جائے گی۔پھر ہندوؤں میں جائے گی اور آگے نکل جائے گی۔یہاں تک کہ زمین کا کوئی گوشہ اور کوئی کنارہ ایسا نہ ہو گا جہاں تبلیغ نہ پہنچے گی۔پس یہ نہیں فرمایا کہ تیری تبلیغ ہندوستان میں پہنچے گی بلکہ یہ کہا کہ زمین کے کناروں تک پہنچے گی۔ہندوستان، افغانستان، عرب، مصر، چین، جاپان، یورپ امریکہ غرضکہ کوئی جگہ نہ رہے گی جہاں نہ پہنچے گی۔اب دنیا کے کنارے خواہ مذہبی لحاظ سے لے لو۔یا زمین کے پھیلاؤ کے لحاظ سے لے لو۔اس میں مختلف مذاہب کے لوگ بستے ہیں۔ان میں سے ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ کسی ہادی کی ضرورت نہیں۔ایسی قومیں بھی ہیں جو کہتی ہیں کسی بچانے والے کی ضرورت نہیں ہم خود دنیا کو بچانے والے ہیں۔ایسے لوگوں کے متعلق یہ سوچنا اور خیال کرنا کہ ان کو اپنی بات منوائیں گے کسی انسان کی طاقت میں نہیں ہے۔وہ مظلوم قومیں جو آزادی کے لئے ہاتھ پھیلا رہی ہوں وہ محکوم ملک جو آزادی کے لئے کوشش کر رہے ہوں وہ تو ہر ایک شخص کی بات مان سکتے ہیں جو ان کو آزادی دلانے اور ترقی کرانے کے لئے کھڑا ہو کیونکہ ان کی حالت اس بیمار کی سی ہوتی ہے جس کے معالج