خطبات محمود (جلد 8) — Page 98
قطرات المحور جلد ۸ 98 ان مدعیان اسلام کو بھی بچے طور پر خادم اسلام نہیں بنا سکے اور ہندوؤں میں سے تو بہت ہی کم لوگ ہیں جو اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فتنہ ارتداد کھڑا کر دیا ہے تاکہ وہ بتائے کہ تم کدھر جاتے ہو۔وہ لوگ جو اسلام میں داخل تو تھے مگر بیمار تھے۔وہ مرتد ہونے لگے۔اس میں شبہ نہیں کہ ان لوگوں میں سوائے اسلام کے نام کے اور کچھ نہیں۔مگر ان پر کیا موقوف ہے۔ہر جگہ عموما یہی حالت ہے کہ لوگ اسلام سے بے خبر ہیں۔اور تو اور عربوں کی بھی یہی حالت ہے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ان کے استاد نے بتایا کہ عرب زندہ جانور کا گوشت کاٹ کر پکا لیتے تھے حالانکہ زندہ جانور کا گوشت کاٹ کر پکانا ظلم ہے مگر عرب اس بے خبری میں مبتلا ہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ ملکانہ لوگ برائے نام مسلمان ہیں۔ان میں بہت سی ہندووانہ رسوم ہیں۔مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہو تا کہ وہ مسلمانوں کا حصہ نہیں تھے۔گو وہ غیر احمدی ہیں مگر وہ مسلمانوں میں شمار ہوتے ہیں۔اس لئے میں نے ان کی حفاظت کے خیال کو چھوڑ نہیں دیا کیونکہ یہ ایک تازیانہ عبرت ہے۔وہ مسلمان کہلاتے ہیں۔ان کا ارتداد ہمارے دل کو خون کر رہا ہے۔ہم بھی ذمہ دار ہیں۔ایک عورت کے خواہ کتنے بچے ہوں وہ ایک کے مرنے پر مطمئن اور صابر ہو کر نہیں بیٹھ سکتی۔ایک دفعہ ضرور اس کو دھکا لگتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کون صابر ہو سکتا ہے۔آپ کا ایک نواسہ فوت ہونے لگا۔آپ کو آپ کی بیٹی نے بلایا۔آپ اس کی جان کنی دیکھ کر چشم پر آب ہو گئے۔ایک صحابی نے جنہوں نے صبر کی تعلیم سنی ہوئی تھی۔کہا حضور آپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔آپ نے فرمایا کہ میرے دل میں شفقت ہے۔غرض دل میں صدمہ محسوس ہوا کرتا ہے۔جس شخص کے دل پر صدمہ محسوس نہ ہو۔سمجھو کہ اس کا دل مر گیا ہے۔اگر کسی شخص کا بچہ ڈوب رہا ہو۔یا مر رہا ہویا آگ میں پڑا ہو۔اس کا کس قدر صدمہ ہو گا؟ تو کیا ہم دیکھ سکتے ہیں کہ وہ ہزاروں لوگ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھتے ہیں آپ کی ذریت سے نکل جائیں اور آپ کو گالیاں دینے لگ جائیں۔اس کو ہم برداشت کرسکتے ہیں۔جو دل ایک شخص کی مصیبت کو برداشت نہیں کر سکتا وہ ہزاروں کی مصیبت کو کیسے برداشت کر سکتا ہے۔اگر کسی شخص کو اتنے بڑے سانحہ سے صدمہ نہیں ہوتا تو عدم احساس صدمہ دو حال سے خالی نہیں۔ایک کفر کی علامت ہے کہ ہمیں نعوذ باللہ اسلام سے محبت نہ ہو۔کیونکہ اگر کسی سے محبت ہو تو ہو نہیں سکتا کہ اس کی مصیبت کا ہمیں احساس نہ ہو اور ہم اپنے محسن یا ہم شہر ہم محلہ کی تکلیف کو بھی محسوس نہ کریں۔تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ ہمارے اعصاب میں نقص ہے۔غرض یہ حالت دو حال سے خالی