خطبات محمود (جلد 8) — Page 88
88 ذلت تھی۔اور اگر ان کے مطالبہ کو نہ تسلیم کریں تو ہلاکت اور تباہی۔لیکن اس قوم نے ذلت برداشت کرنے کو گوارا نہ کیا اور مرجانا قبول کیا۔جرمن نے چند دن میں تمام ملک پر قبضہ کر لیا۔ان کے بڑے بڑے آدمی جلا وطن کر دئے گئے اور ان کو مزدوروں کے کام پر لگایا۔آخر خدا نے ان کی مدد کے لئے دوسری طاقتوں کو بھیجا اور جرمن کو شکست ہوئی۔اب وہی بلیجیم اتنے زوروں پر ہے کہ جرمن کو ڈرا رہا ہے اور اپنے مطالبات منوا رہا ہے۔اس قوم نے ذلت کی زندگی پر عزت کی موت کو ترجیح دی۔ان کا مقابلہ چڑیا اور باز کا مقابلہ تھا۔مگر آخر چڑیا باز پر فوقیت لے گئی۔غرض زندہ رہنے والی قومیں کسی بڑی بات کو بڑا نہیں سمجھا کرتیں اور کسی چھوٹی بات کو معمولی نہیں خیال کرتیں۔یہ آیت شریفہ جو میں نے تلاوت کی ہے کذالک جعلنكم امة وسطا لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تم کو امت وسطی بنایا ہے کہ تم کسی کام کو بڑا نہ سمجھو اور کسی کو چھوٹا نہ سمجھو۔اگر کوئی بڑے سے بڑا خطرہ بھی آجائے تو چاہئیے کہ تم کہو کہ کیا ہوا۔ہم اس کو اللہ کے بھروسہ پر اٹھائیں گے۔اور اگر کوئی چھوٹا ہو تو اس کو معمولی نہ خیال کرو بلکہ خدا سے استغفار کرو اور اس کے استیصال کی پوری کوشش کرونہ یہ حکم کیوں دیا ہے کہ تم نگراں ہو جاؤ گے اور شہداء علی الناس بن جاؤ گے۔اور فرمایا کہ اسی قانون پر چل کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارا نگران ہو گیا۔وہ کونسا حکم ہے جس پر چل کر مومن کی یہ حالت ہو جاتی ہے۔وہ یہ ہے تتجافى جنوبهم عن المضاجع خوفا وطمعا (السجدہ : ۱۷) مسلمان کے لئے حکم دیا ہے کہ سچا مومن وہ ہے جو خدا سے طمع اور خوف کرتا ہے۔یعنی اگر چھوٹا خطرہ ہو تو ڈرتا ہے۔اگر اپنی جماعت میں کوئی ایک غدار ہو تو وہ ڈر جاتا ہے۔اگر کسی جماعت میں جاہل یا بے ایمان ہوتا ہے تو ساری جماعت ڈر جاتی ہے کہ الہی یہ کیا مصیبت آنے والی ہے کیونکہ ایک غدار آدمی سے اور جاہل آدمی سے جماعت میں رخنہ پڑ سکتا ہے۔اس لئے وہ خوف کرتے ہیں اور اس کو معمولی بات خیال نہیں کرتے۔اس کے مقابلہ میں جب بڑے مصائب غیر اقوام کی طرف سے آتے ہیں اور خطرناک دشمن حملہ آور ہوتا ہے تو ہمت نہیں ہارتے اور اس سے ڈرتے نہیں اور وہ ایسے ہوتے ہیں کہ کوئی بیرونی دشمن ان کو ڈرا نہیں سکتا۔اندرونی فساد ہو تو چھوٹے سے چھوٹے فساد سے ڈر جاتے ہیں۔اور بیرونی فساد ہو خواہ کتنا بڑا ہو اس سے نہیں ڈرتے۔جو لوگ ان تعلیمات پر عمل کرنے والے ہوتے ہیں ہماری طرف سے ان کے لئے زندگی اور کامیابی مقدر کی گئی ہے اور ان کو وہ کچھ ملتا ہے جو ان کے وہم اور خیال سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے۔دنیا میں بہت کم لوگ ہوتے ہیں جن کی امید پوری ہو۔مگر اللہ کا اس جماعت سے ایسا سلوک ہوتا ہے کہ امیدوں اور خیالات سے بالا ہوتا ہے۔یہ کامیابی کا ایسا گر ہے کہ ہماری جماعت کو جو آخری ،