خطبات محمود (جلد 8) — Page 87
87 اس واقعہ کو ہندوستانیوں کی طرح نہیں دیکھا بلکہ قومی حیثیت میں دیکھا۔ان کے ہاں اس واقعہ سے شور پڑ گیا اور اس عورت کے بچانے کے لئے تمام ملک میں ایک ہنگامہ مچ گیا اور چیف کمشنر جس کی سرحدی علاقہ میں گورنر کی حیثیت ہوتی ہے وہاں پہنچ گیا۔کوشش کی گئی کہ یا تو صلح صفائی سے لڑکی واپس مل جائے یا لڑائی کر کے چھین لیں گے۔اس وقت انگریز عورت جس کا نام مسٹر سٹار ہے۔وہ اپنی خدمات پیش کرتی ہے کہ میں وہاں جاتی ہوں جہاں لڑکی ہے کہ وہ اکیلے ہونے کے باعث گھبرائے نہیں اور اس کو اپنی زبان میں باتیں کرنے والی مل جائے۔گو اس کو کہا جاتا ہے کہ وہ لوگ مار ڈالیں گے مگر وہ اس کی پروا نہیں کرتی۔ادھر ان سرحدی رؤساء جن کے گورنمنٹ سے تعلقات ہیں، مجبور کیا جاتا ہے کہ زور ڈال کر اس لڑکی کو بچاؤ ورنہ ہمارے تمہارے ساتھ اچھے تعلقات نہیں رہیں گے۔تین دن کے اندر سینکڑوں میل تک لوگ کام میں لگ جاتے ہیں اور فوجیں جمع ہو جاتی ہیں۔وہ انگریز عورت چند مسلمان افسروں کی معیت میں جاتی ہے اور کسی نہ کسی طرح چند دن میں لے آتی ہے۔یہ کام ایسی چالا کی اور پھرتی سے کیا جاتا ہے کہ گویا ساری مشینری اسی کام کے لئے حرکت کر رہی ہے۔ادھر وہ لڑکی آتی ہے ادھر بادشاہ کی طرف سے کارکنوں کے لئے شکریہ اور خطابات بھی آجاتے ہیں۔اب یہ ایک معمولی واقعہ تھا۔ہندو مسلمانوں کی کتنی لڑکیاں سرحدی لے جاتے ہیں۔مگر ایک انگریزی لڑکی کے لے جانے پر انگلستان کے گوشہ گوشہ میں تار پہنچائی جاتی ہے۔پارلیمنٹ میں کہ اصل میں ملک کی حاکم یہی جماعت ہے اور بادشاہ کو اتنے اختیارات نہیں۔تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد پارلیمنٹ کے سوال پر وزیر ہند اعلان کرتا ہے کہ اب وہ لڑکی کہاں ہے اور ہمارے آدمی کہاں ہیں۔اس کے کتنے قریب پہنچ گئے ہیں اور اب جلد لڑکی واپس آجائے گی اور اب اس جگہ پہنچ گئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔غرض ایک ایک لحظہ کے بعد ہاؤس میں سوال ہوتا ہے اور وزیر ہند تازہ ترین تاروں کا اعلان کرتا ہے۔یہ ایک چھوٹی سی بات تھی مگر انگریز قوم نے اس کو چھوٹا نہیں سمجھا۔اس لئے یہ بات ان کی زندگی کو ثابت کرنے والی ہے۔جو قومیں چھوٹی باتوں کی پروا نہیں کرتیں ہلاک ہو جاتی ہیں اور جو بڑی باتوں سے گھبرا جاتی ہیں وہ بھی زندہ نہیں رہ سکتیں۔جس وقت جرمن نے جنگ شروع کی تو اس نے بلجیم کے سامنے چند مطالبات پیش کئے۔بلجیم کی آبادی چالیس لاکھ کی ہے۔حکومت کے لحاظ سے بہت چھوٹا ملک ہے لیکن جرمن کے مطالبہ کو اگر وہ قبول کرتی تو ذلیل ہو جاتی۔بلجیم جانتا تھا کہ اگر جرمن کی بات کو تسلیم نہیں کرے گا تو چند گھنٹے میں اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔جرمن کے بلجیم کے سامنے دو باتیں تھیں۔اول یہ کہ اگر ان کے مطالبہ کو تسلیم کریں تو ان کے لئے مطالبہ کی