خطبات محمود (جلد 8) — Page 75
75 13 اطمینان قلب خدا کے کلام سے ملتا ہے فرموده ۲۰ ر ایریل ۱۹۲۳ء) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔انسان کی حالت کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے بڑی چیز جو اس پر اثر کرتی ہے اور جو اس کی زندگی پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔وہ اس کے خیالات ہیں۔عام طور پر لوگ نہ تو اقرار کرنے کے لئے تیار ہیں نہ اس کو محسوس کرتے ہیں کہ سب سے زیادہ اثر کرنے والی چیز جس پر وہ قابض ہیں۔یا وہ ان پر قابض ہے۔وہ خیالات ہیں جو دماغ میں پیدا ہوتے ہیں۔ان میں ادبی تغیر سے انسان کی حالت کچھ سے کچھ ہو جاتی ہے۔اگر نیک تغیر ہو تو اس کی زندگی پاک اور مصفی ہو جاتی ہے۔اگر بد تغیر ہو تو زندگی گندی اور بھیانک ہو جاتی ہے۔بعض دفعہ انسان ان تغیرات کو محسوس نہیں کرتا۔بعض دفعہ کرتا ہے۔وہ اس پر غالب ہوتے ہیں یا اور بیرونی حوادث اور روکیں ہوتی ہیں جن کے باعث اس تغیر کو چھوڑ نہیں سکتا۔انہی خیالات کے تغیر کو دیکھو تھوڑے سے تغیر سے کیا ہو جاتا ہے۔مثلاً ہسٹریا کا بیمار جس کو اختناق الرحم کہتے ہیں چونکہ عام طور پر یہ مرض عورتوں میں زیادہ ہوتا ہے۔اس لئے اس کو رحم کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ورنہ مردوں میں بھی یہ مرض ہوتا ہے۔جن مردوں کو یہ مرض ہو ان کو مراقی کہتے ہیں۔گو یہ الگ بیماری بھی ہے مگر اس سے یہ اثر شدت سے ظاہر ہوتا ہے۔ان بیماریوں میں دماغ کی بناوٹ میں فرق آجاتا ہے اور ایک خاص صفت غالب آجاتی ہے۔ہسٹریا میں رونے اور ہننے کی صفات غالب ہوتی ہیں۔عام طور پر ایسے مریض کے کاموں میں بے لطفی اور بے مزگی ہوتی ہے۔خواہ ایسا شخص امیر ہو یا غریب ہو۔بادشاہ ہو یا دوا تند ہو۔اس کو کسی رتبہ اور مال میں لطف نہیں آتا۔جائداد سے خوشی نہیں ہوتی۔رتبہ و عزت سے اس کو اطمینان نہیں ہو تا۔وہ سب سامان راحت رکھتا ہے مگر حالت اس کی بے اطمینانی کی ہوتی ہے۔غرض وہ ایک زندہ مردہ اور غلام آزاد ہوتا ہے۔خیالات کے تغیر سے تمام کوششیں رائیگاں چلی جاتی ہیں۔وہ جائداد اور رتبہ جو اس کے