خطبات محمود (جلد 8) — Page 74
74 کام سے کوئی نسبت نہیں رکھتیں۔اگر تم ایسا کہو تو تم نے یقیناً اس کام کی اہمیت کو محسوس نہیں کیا۔پس تم اس کام کی اہمیت کے لحاظ سے دعائیں شروع کرو۔عجز و انکساری اختیار کرو۔اگر ہماری جماعت اس بات کو سمجھ لے تو ان پر رحمت الہی کے دروازے کھل جائیں اور جس طرح اب مجھے اپنے سامانوں کو دیکھ کر ہنسی آتی ہے پھر دشمن پر ہنستی آئے کہ خدا کی ہستی ہمارے ساتھ ہے۔مگر نادان دشمن ہمارا مقابلہ کرتا ہے۔گویا بالکل ہی نقشہ بدل جائے اور یہ صرف دعاؤں عاجزی خشوع و خضرع سے ہی ہو سکتا ہے۔پس تم دعاؤں میں لگ جاؤ اور نفس پرستی چھوڑ دو۔اگر میری بات مان لو اور ایسا درد اور جوش پیدا کرو جو ایسے موقعہ پر کرنا چاہئیے اور خدا سے مدد مانگو تو دشمن کی ہستی ہی کیا ہے جو تمہارے سامنے ٹھر سکے۔کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا۔اس وقت فاتح مغلوب اور مغلوب فاتح بن جاوے اور یہ حالت صرف نصرت الہی پر منحصر ہے۔دنیا تو ہم پہلے ہی کھو بیٹھے ہیں اگر خدا بھی نہ ملے تو ہماری یہی مثال ہوگی۔نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے خدا ہی ما نہ وصالِ صنم پس تم پورے طور پر دعاؤں میں مصروف ہو جاؤ۔میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے احباب خصوصیت سے دعا کریں گے اور دعا سے ہی فیضان کے منبع کی قدر پیدا ہوتی ہے۔صرف منہ سے کہنا کہ خداتعالی سنتا ہے اور بولتا ہے اور قدرت نمائی کرتا ہے۔صرف دعادی ہیں۔جب تک ان کے ساتھ مشاہدہ نہ ہو اور وہ مشاہدہ خدا کے فضل سے حاصل ہوتا ہے اور دعائیں فضل کو جذب کرتی ہیں۔پس تم دعاؤں میں لگ جاؤ اور عجز و انکساری کرو اور سچے مومن کے کام کرو تا یہ نشان پورے ہوں اور خدائے واحد کا جلال ظاہر ہو اور دنیا سے کفر و فسق مٹ جائے اور دنیا میں امن و امان ہو اور خالص توحید پھیل جائے۔آمین۔الفضل ۱۳ مئی ۱۹۲۳ء)