خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 70

70 اور ہم مانتے ہیں کہ وہ اب بھی بولتا ہے جیسے پہلے بولتا تھا۔اور اب بھی قدرت نمائی کرتا ہے جس طرح پہلے کرتا تھا۔جس طرح پہلے اس کے قرب کے دروازے کھلے تھے اور مقرب لوگ اس کی نعمتوں کے وارث ہوتے تھے اب بھی کھلے ہیں اور وہی نعمتیں حاصل کی جا سکتی ہیں۔ہمارے یہ عقائد کوئی فروعی مسائل نہیں کہ ماننا یا نہ مانتا برابر ہو بلکہ یہ مسائل وہ ہیں کہ جن کی وجہ سے ہم نے مختلف قوموں سے لڑائی جھگڑا شروع کر رکھا ہے اور ان سے علیحدہ ہو گئے ہیں۔ہندوؤں سے ہماری لڑائی ہے تو انہی عقائد کیوجہ سے۔عیسائیوں سے ہماری جنگ ہوتی ہے تو محض ان عقائد کی بنا پر۔یہودیوں کا جو ہم سے جھگڑا ہے تو وہ بھی ان عقائد کی وجہ سے۔ہم سکھوں سے جو علیحدہ ہیں تو ان عقائد کی وجہ سے۔زرتشتیوں سے جو ہماری جنگ ہے تو ان عقائد کے لئے۔پارسیوں سے بھی ہماری لڑائی ان مسائل کے متعلق ہی ہے ورنہ ہم سب ایک دادا کی اولاد ہیں۔کیا وجہ ہے کہ ہم نے ان سے قطع تعلق کر لیا ہے؟ محض ان عقائد کی وجہ سے۔پھر انہی عقائد میں سے بعض کی وجہ سے مسلمان کہلانے والے ہم سے جدا ہیں۔اگر یہ عقائد نہ ہوں تو ہم میں اور ان میں کوئی اختلاف نہیں۔اختلاف اور جھگڑے کی بنیاد یہ عقائد ہیں۔اسی وجہ سے ہم نے ان سے علیحدگی اختیار کرلی ہے۔کیونکہ جب کسی کے عقائد گندے ہوں تو اس سے مجبوراً علیحدہ ہونا پڑتا ہے۔پس یہ فروعی باتیں نہیں بلکہ اصول اور نہایت اہم امور ہیں جن کی خاطر ہم نے مادی دنیا سے جنگ چھیڑی ہوئی ہے۔تو اب اگر ان عقائد میں ہی ہم کمزور ہوں اور ان سے عملی فائدہ کوئی نہ اٹھائیں تو ہم سے بد قسمت اور بد نصیب کون ہو گا۔اس شخص کی بد بختی میں کیا شبہ رہ جاتا ہے جو ان عقائد کے لئے تو دنیا بھر سے لڑائی کرے مگر ان سے عملی فائدہ کے حصول کی کوشش نہ کرے۔ایسا شخص یقیناً ایک حقیقت کو چھوڑتا ہے۔مثلاً اگر ہم ہندوؤں یا عیسائیوں سے تعلق رکھیں تو جو فوائد ہم کو حاصل ہو سکتے ہیں وہ ایک حقیقت ہے یا جو فوائد یہودیوں اور زرتشتیوں اور غیر احمدیوں سے ملنے سے ہم کو مل سکتے ہیں۔وہ ایک واقعی حقیقت ہے۔لیکن اگر ہم ایک لفظ کی کوئی حقیقت معلوم کرلیں اور اس کی کنہ کو پالیں تو یہ صرف ایک لفظی فائدہ لفظی فائدہ حقیقی نہیں ہوتا۔تو اب سوچ لو کہ اگر ان عقائد سے ہم نے صرف لفظی فوائد ہی حاصل کئے ہیں تو کیا فائدہ۔یاد رکھو حقیقی فوائدہ تب ہی قربان کئے جاسکتے ہیں جب ان سے بڑھ کر ملیں۔میں پوچھتا ہوں کہ تم نے ان عقائد کو کہاں تک عملی جامہ پہنایا ہے اور کہاں تک ان سے حقیقی فائدہ اٹھایا ہے۔ہمارا اگر غیر احمدیوں سے یہ اختلاف ہے کہ اللہ تعالٰی اب بھی قدرت نمائی کرتا اور سنتا بولتا ہے۔جس طرح کہ پہلے کیا کرتا تھا تو اس سے ہم نے عملی فائدہ کیا اٹھایا۔اگر کہو کہ ہم اپنی مصائب میں اس سے دعا کرتے ہیں تو یاد رکھو کہ ذاتی مصائب اور تکالیف کے وقت تو دہریہ بھی