خطبات محمود (جلد 8) — Page 64
64 اس موقعہ پر امراء نے غرباء کو شکست دے دی تھی۔میرے نزدیک وہ جو ۱۳ سو سال کا بدلہ تھا اب اس موقعہ پر غرباء نے نکال لیا ہے اور امراء کو شکست دے دی ہے۔جب میں نے اس چندہ کی تحریک کی تو سب سے پہلے وہی لوگ آپہنچے جو فی الواقع سو روپیہ دینے کی کسی طرح طاقت نہ رکھتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ لکھا ہے کہ میں اس لئے آیا ہوں کہ جو قومیں پیچھے رہ گئی ہیں اور ان کے حقوق دبائے گئے ہیں ان کو ان کے حقوق دلاؤں۔میں آدم ہوں۔اس لئے آیا ہوں کہ پہلے آدم کا بدلہ لوں اور جس طرح شیطان نے اس کو جنت سے نکلوا دیا تھا۔میں شیطان اور اس کی ذریت کو ابدی جنت سے نکلوا دوں۔مجھے مسیح بنایا گیا تاکہ پہلے مسیح کو صلیب دیا جانے کے بدلے میں صلیب کو توڑ دوں۔اور آئندہ ہمیشہ کے لئے اس رستہ کو بند کر دوں۔میں یوسف ہوں۔پہلے یوسف کو جو بھائیوں نے نکال دیا تھا اس کا بدلہ لینے آیا ہوں تا اسیروں کو رستگاری دلاؤں۔اسی طرح میں سمجھتا ہوں کہ پہلے غرباء کو شکست ہوئی اب اللہ تعالیٰ نے موقع دیا ہے کہ وہ اپنا بدلہ نکال لیں۔اور امراء کو شکست دے لیں۔باوجود اس کے کہ غرباء نے نہایت ہی قابل رشک نمونہ دکھلایا ہے۔ہمارے اصل مخاطب پھر بھی امراء ہی ہیں۔خواہ وہ قادیان کے ہوں یا باہر کے ہوں۔انہیں چاہیے کہ اس حد تک حصہ لیں جتنی ان کو وسعت ہے۔پیچھے رہنے کی کوشش نہ کریں۔جو پانچ سو دے سکتا ہے وہ اس سے کم نہ دے۔اور جو ہزار دے سکتا ہے وہ ہزار سے آنہ کم نہ دے۔تب ہی یہ کام ہو سکتے ہیں۔دنیا کی آسائش کے بہت مواقع مل سکتے ہیں۔اللہ تعالی کی ملاقات کے مواقع نہیں ملا کرتے۔اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا موقع مل تو ہر وقت سکتا ہے مگر انسان کے دل میں تحریک اور جوش کے پیدا ہونے کے خاص خاص اوقات ہی ہوتے ہیں۔جن میں سے یہ موقعہ ایک بڑا عظیم الشان موقعہ ہے اس کو رائیگاں نہ جانے دینا چاہیے۔ورنہ پچھتانا ہوگا۔اس سے بہتر کونسی بات ہو سکتی ہے کہ غیر احمدی جو ہم سے بہت ہی بغض و عناد رکھتے ہیں جوش سے کھڑے ہو گئے ہیں اور ہر طرح سے ہماری مدد کرنے کو تیار ہیں۔کیونکہ یہ مصیبت اسلام پر ہے اور اس کے لئے مقابلہ کرنے والے صرف احمدی ہی ہو سکتے ہیں اور غیر احمدی اس بات کو محسوس کرنے لگ گئے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے دین کی حمایت کرنے والے یہی لوگ ہیں۔ہماری جماعت میں پیچھے کس قدر قابل افسوس غفلت رہی ہے۔میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے فرض کو شناخت کریں۔اور ہر شخص اٹھ کھڑا ہو جب تک اکناف عالم میں اسلام نہ پھیل جائے اس کو چین نہ آئے۔اٹھو کہ یہ موقعہ پھر نہیں ملے گا۔