خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 61

61 11 احمدی مخلصین آگے بڑھیں (فرموده ۶ / اپریل ۱۹۲۳ء) تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔پچھلے دنوں ہماری جماعت کے مختلف انجمنوں کے نمائندے بغرض مشورہ آئے تھے۔ان سے مشورہ کے بعد میں نے چند امور طے کئے ہیں۔جن میں سے بعض امور فتنہ ارتداد سے تعلق رکھتے ہیں جو یو پی میں رونما ہوا ہے اور آج میں انہی امور کے متعلق اپنی جماعت کو توجہ دلاتا ہوں۔میں پچھلے دنوں سے قریباً ہر خطبے میں جماعت کو اس فتنہ کی طرف توجہ دلاتا رہا ہوں۔جس کی وجہ یہ ہے کہ جمعہ کی نماز کی علت غائی یہی ہے کہ مسلمانوں کو ان امور کی طرف متوجہ کیا جائے جو ان کے ملت و دین سے تعلق رکھتے ہیں اور بحیثیت مجموعی جن کا واسطہ تمام مسلمانوں سے پڑتا ہے۔وعظ و نصیحت تو اکیلے اکیلے بھی کئے جا سکتے ہیں۔لیکن وہ امور جو اجتماع کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں وہ اجتماع کے بغیر کیونکر حل ہو سکتے ہیں تو ایسی باتوں کے لئے نماز جمعہ مقرر ہے۔ہماری شریعت جس کے تمام حکم پر حکمت ہوتے ہیں اور جن کا کوئی بھی ارشاد بلاوجہ نہیں۔اس نے ہماری اس ضرورت کو دیکھ کر ہمارے لئے نماز جمعہ مقرر فرمائی جس میں سب مسلمان جمع ہوا کریں اور امام ان کو ضرورت حاضرہ سے آگاہ کیا کریں۔اسلامی شریعت میں خطبہ اتنا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نماز ظہر کے چار فرضوں میں سے کاٹ کر دو رکعت محض خطبہ کے لئے رکھ دئے۔اس میں غرض یہ رکھی کہ تمام لوگوں میں ایک روح پیدا کی جائے اور اجتماعی قوت کو مضبوط کیا جائے اور پیش آمدہ خطرات سے ان کو آگاہ کیا جائے اور ان سے بچنے کا طریق بتایا جائے اور ضروریات سلسلہ کا علم کرایا جائے۔لیکن بد قسمتی سے مسلمانوں میں کچھ عرصہ سے یہ طریق جاری ہو گیا ہے کہ خطیب کھڑے ہوتے ہیں اور صدیوں کے پرانے خطبے پڑھ کر سنا دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں سے وہ ترقی کی روح بھی جاتی رہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے احسانوں میں سے ایک احسان یہ بھی ہے کہ آپ