خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 558 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 558

558 بعض وقت اس کی ماں اس گھر کی نوکر اور خادمہ ہوتی ہے۔پس جب ہم اپنے مولی کی گود میں آ جائیں گے جو کہ بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔تو پھر ہمارا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے۔ہم فورا کہہ دیں گے کہ اگر ہمیں چھیڑا تو ہم اپنے مولیٰ سے کہہ دیں گے۔پس میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہمیں اپنی عظمت اور اپنے جلال اور اپنی بے انتہا قدرتوں کا مظہر بنا دے۔اور اس کی شان اور عظمت تمام دنیا اور اس کے ہر ہر گوشہ میں ظاہر ہو۔اور خدا تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس کے لئے اور اس کے دین کی خاطر اپنا سب کچھ اس کی راہ میں قربان کر دیں اور ہماری نسلوں کو بھی توفیق عطا فرما دے اور کوئی وسوسہ ہمیں اس سے جدا نہ کر سکے۔وہ ہمارا ہو اور ہم اس کے ہو جائیں۔اللهم امین میں اس امر کا بھی اعلان کرتا ہوں کہ اس سفر کے دوران میں اور اس کے بعد بھی بعض صدمات مجھ کو اور جماعت کو پہنچے ہیں۔جو ایک حیثیت سے تمام جماعت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔اور وہ وہ موتیں ہیں۔جو اس تھوڑے سے عرصہ میں واقعہ ہوئی ہیں میں ان تمام دوستوں کا نمازیں جمع کرنے کے بعد جنارہ پڑھوں گا اور اپنی بیوی مرحومہ کا بھی جنازہ پڑھوں گا کیونکہ عورتوں کا بھی حق ہوتا ہے اور مجھے پر تو ان کا بہت بڑا حق ہے۔جس کو میں کسی طرح بھی بھلا نہیں سکتا اس لحاظ سے بھی کہ وہ استاذی المکرم حضرت خلیفہ اول کی لڑکی تھیں۔اسی طرح جماعت کے بڑے بڑے آدمیوں نے وفات پائی ہے۔میر صاحب ہیں۔میر محمد سعید صاحب اور جماعت لیگاس کے پریذیڈنٹ اور سیلون کے سیکرٹری اور شیخ فضل کریم صاحب وہ بھی نہایت مخلص آدمی تھے۔ان سب کا اور اپنے گھر والوں کا بھی نماز کے بعد جنازہ پڑھوں گا۔تاکہ سب دوست دعا میں شریک ہو جائیں : مجمع بحار الانوار جلد ۳ زیر لفظ ید الفضل ۳ جنوری ۱۹۲۵ء)